ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سپردِ خاک، مشہد میں لاکھوں افراد کی شرکت

مشہد/اسلام آباد (ایم این این): ایران کے مقتول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ جمعرات کی شب ان کے آبائی شہر مشہد میں ادا کی گئی، جہاں شدید گرمی کے باوجود لاکھوں سوگواروں نے شرکت کرکے انہیں آخری عقیدت پیش کی۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق نماز جنازہ کی امامت آیت اللہ خامنہ ای کے بڑے صاحبزادے نے کرائی، جس کے بعد انہیں روضۂ امام رضاؑ میں سپردِ خاک کر دیا گیا، جو شیعہ مسلمانوں کے مقدس ترین مزارات میں شمار ہوتا ہے۔

تدفین سے قبل ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں چھ روز تک سوگ اور دعائیہ تقریبات کا سلسلہ جاری رہا۔ تہران میں نماز جنازہ کی امامت آیت اللہ جعفر سبحانی نے جبکہ قم میں آیت اللہ جوادی آملی نے کی۔

ایرانی حکام کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آغاز پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔

انہیں اپنے خاندان کے ان افراد کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا جو اسی حملے میں مارے گئے تھے، جن میں ان کی کمسن نواسی، بیٹی، داماد اور ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ زہرا حداد عادل شامل ہیں۔

نماز جنازہ سے قبل آیت اللہ خامنہ ای کے تابوت کو مشہد کی سڑکوں پر ایک بڑے جلوس کی صورت میں گزارا گیا، جہاں لاکھوں افراد نے شرکت کی، مذہبی نوحے پڑھے اور انقلابی نعرے لگائے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق جلوس روضۂ امام رضاؑ کی جانب بڑھا، جبکہ راستے بھر میں سوگوار ایرانی پرچموں اور انتقام کی علامت سمجھے جانے والے سرخ جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ امریکی کشیدگی کے پیش نظر خامنہ ای کے تابوت کو مشہد منتقل کرنے والے طیارے کو سکیورٹی کے طور پر جنگی طیاروں کی نگرانی بھی حاصل رہی۔

یہ تدفین ایران اور عراق کے مختلف شہروں، خصوصاً نجف، کربلا، تہران اور قم میں ہونے والی مسلسل چھ روزہ آخری رسومات کا اختتام تھی، جن میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔

سوگواروں کی بڑی تعداد نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی اور خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے مطالبات بھی کیے۔

مشہد کے حکام کے مطابق جنازے میں لاکھوں افراد شریک ہوئے، جبکہ 35 ڈگری سینٹی گریڈ گرمی کے باعث شرکاء کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے پانی کے اسپرے اور دیگر انتظامات کیے گئے۔

مبصرین کی نظریں آیت اللہ خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای پر بھی مرکوز رہیں، جو حملے میں زخمی ہونے کی اطلاعات کے بعد تاحال کسی عوامی تقریب میں نظر نہیں آئے۔

سرکاری میڈیا نے اس جنازے کو حالیہ برسوں کی سب سے بڑی عوامی مذہبی و قومی تقریبات میں سے ایک قرار دیا۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں