تحریر: مریم کیانی
جب درجۂ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے اور ہیٹ ویوز روزمرہ کی خبر بن جاتی ہیں تو ہم میں سے اکثر لوگ ایئر کنڈیشنڈ دفاتر، ٹھنڈے گھروں یا گاڑیوں میں پناہ لے لیتے ہیں۔ مگر یہ سہولت معاشرے کے ایک بڑے طبقے کی پہنچ سے بہت دور ہے۔ جہاں ہم اپنے اے سی کا درجہ حرارت کم کر رہے ہوتے ہیں، وہیں بے شمار لوگ کھلے آسمان تلے سخت دھوپ میں محنت مزدوری کرکے اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ پال رہے ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں انسانیت اور ہمدردی کے چھوٹے چھوٹے مظاہرے بھی بہت بڑی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں اور یہ احساس دلاتے ہیں کہ تیز رفتار زندگی میں بھی رحم دلی کی گنجائش باقی ہے۔
اگر آپ باہر نکل کر اردگرد نظر دوڑائیں تو ایک خاموش محنت کش طبقہ دکھائی دے گا جو ہمارے شہروں کو رواں دواں رکھتا ہے۔ سڑکوں اور فٹ پاتھوں کی صفائی کرنے والے خاکروب، جھلسا دینے والی دھوپ میں پودوں کی تراش خراش کرنے والے مالی، گھنٹوں ٹریفک سنبھالنے والے ٹریفک وارڈنز، بینکوں، دفاتر اور گھروں کے باہر ڈیوٹی دینے والے سیکیورٹی گارڈز، اور شہر بھر میں کھانا یا پارسل پہنچانے والے ڈیلیوری رائیڈرز—یہ سب شدید گرمی میں بھی اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہتے ہیں۔ ان کے جسم پسینے سے شرابور ہوتے ہیں، مگر ان کے چہروں پر شائستگی اور فرض شناسی برقرار رہتی ہے۔
یہ تمام افراد ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں، لیکن افسوس کہ ان کی سہولت اور آسائش کے بارے میں بہت کم سوچا جاتا ہے۔ کسی ڈیلیوری رائیڈر، مزدور یا راہ چلتے محنت کش کو ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس پیش کرنا بظاہر ایک معمولی عمل لگتا ہے، مگر درحقیقت یہ صرف پیاس بجھانے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانیت، احترام اور احساس کا اظہار بھی ہے۔ یہ ایک خاموش پیغام ہوتا ہے کہ “ہم آپ کی مشکلات کو محسوس کرتے ہیں اور آپ کی قدر کرتے ہیں۔”

رمضان المبارک کے دوران ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ ہزاروں رضاکار افطار کے وقت سڑکوں پر کھجوریں، مشروبات اور کھانا تقسیم کرتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ رمضان ختم ہوتے ہی یہ جذبہ کہاں چلا جاتا ہے؟ گرمی تو ختم نہیں ہوتی، نہ ہی کھلے آسمان تلے محنت کرنے والوں کی مشکلات کم ہوتی ہیں۔ اگر یہی ہمدردی صرف مذہبی فریضہ سمجھنے کے بجائے ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے تو بہت سے لوگوں کی زندگی آسان ہو سکتی ہے۔
صرف انسان ہی نہیں بلکہ پرندے اور آوارہ جانور بھی اس شدید گرمی سے خاموشی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ تیزی سے بڑھتی شہری آبادی نے ان کے قدرتی مسکن اور پانی کے ذرائع چھین لیے ہیں۔ درختوں کی جگہ عمارتیں اور پانی کے جوہڑوں کی جگہ کنکریٹ نے لے لی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنے گھروں، چھتوں اور دیواروں پر پرندوں کے لیے پانی سے بھرے برتن رکھتے ہیں، جبکہ کچھ افراد آوارہ بلیوں اور کتوں کے لیے خوراک بھی چھوڑ جاتے ہیں۔ لیکن موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اس دور میں ایسے اقدامات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
ہمیں اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ ذرا تصور کیجیے اگر ہر گلی میں پرندوں کے لیے پانی کا انتظام ہو، ہر محلے میں کھلے آسمان تلے کام کرنے والوں کے لیے سایہ دار جگہ موجود ہو، یا ہر گاڑی میں صرف اپنے لیے نہیں بلکہ کسی ضرورت مند کے لیے بھی پانی کی ایک اضافی بوتل رکھی جائے۔ یہ کوئی مہنگے یا پیچیدہ منصوبے نہیں بلکہ آسان اور قابلِ عمل اقدامات ہیں۔ اسکول، سماجی تنظیمیں اور مقامی دکاندار بھی “سمر کائنڈنیس ڈرائیوز” شروع کر سکتے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر “پرندے کے لیے ایک پیالہ” یا “رائیڈر کے لیے ایک بوتل” جیسی مہمات چلائی جا سکتی ہیں۔
اس کے لیے صرف نیت، شعور اور تھوڑی سی توجہ درکار ہے۔ اگرچہ پالیسیوں اور سیاست کے بڑے تناظر میں یہ اقدامات معمولی محسوس ہوتے ہیں، مگر ان لوگوں کے لیے جو روزانہ کئی کئی گھنٹے تپتی دھوپ میں کام کرتے ہیں، ایک گلاس ٹھنڈا پانی، ایک سایہ دار جگہ یا محبت بھرے چند الفاظ ان کے مشکل دن کو کافی حد تک آسان بنا سکتے ہیں۔
گرمی کا موسم لازماً تکلیف کا موسم نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ ہمدردی، انسانیت اور احساس کا موسم بھی بن سکتا ہے۔
گرمی سب کی مشترکہ آزمائش ہے، تو مہربانی بھی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہونی چاہیے۔
مہربان بننے کے لیے زیادہ کچھ نہیں چاہیے، مگر یہی معمولی سی مہربانی شدید گرمی میں کسی کے لیے زندگی کا سہارا بن سکتی ہے۔



