فیصل کے فیصلوں کا فرق

چار ستمبر کو حکومت کے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی معمولی سیکشن آفیسر خولہ طارق کی جانب سے جاری ایک نوٹیفیکیشن نے طاقتور ترین ڈی جی (سی) میجر جنرل کو بقول مرحوم اُستاد سعود ساحر لکھ سے ککھ کردیا۔ اس قلم کار کے صحافتی دورانیہ میں ڈیڑھ درجن سے زائد لوگ “مرکز طاقت” (Power House) میں تعینات ہوئے اور تبدیل یا سبکدوش کردئیے گے۔ بہت لوگ آئے اور چلے گے، تعینات ہوتے ہیں تو یہ محسوس ہوتا کہ”صاحب بہادر” کی مرضی کے بغیر چڑیا پر نہیں مار سکتی۔ جس کسی کی اس “ آستانہ عالیہ “ کے “گدی نشین” سے اچھی سلام دعا ہو جائے وہ ہر ایک کو تفاخر سے بتاتا کہ مجھ سے بچ کر رہنا، ڈی جی (سی) کا خاص بندہ ہوں۔
وڈا یا واؤڈا جن پر یہ شعر بہت موزوں ہے کہ
‎ہوا ہے شہ کا مصاحب، پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے
نے بھی کیا کیا بھڑکیں ماری، ان سے پہلے شیخ رشید نہ جانے کس کس پر گیٹ نمبر 4 بند کرتے رہے۔
بہت بااثر مقام پر کئی طاقتور آئے اور چلے گے۔ بحریہ ٹاؤن کے نام پر پلاٹ بیچنے والے ملک ریاض نے کئی ایک اور دوستارے والے جنرلز اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لئے ملازم رکھے ، لوگوں پر دھونس جمانے کے لئے کہتا تھا ایک یا دوستارے والوں میں سے کس کے ہاتھ کی چائے پئیو گے۔؟
جج اکثر و بیشتر جرنیلوں کی رکھیل کا کردار کرتے ہیں مگر افتخار چوہدری کیخلاف زرداری کے “انتقامی کھیل” کو ملک ریاض نے پروان چڑھایا تو چوہدری کو سو موٹو لینا پڑ گیا، بنچ تشکیل دیکر اپنے یار خاص جسٹس جواد ایس خواجہ کو ملک ریاض کی طنابیں کھینچنے کا “فریضہ “ سونپا۔
یہ قلم کار چشم دید گواہ ہے جب خواجہ نے زمین و ضمیر فروش ملک کے ملازم چھ کے چھ دو ستارے والے جنرلز کو عدالت طلب کیا، باری باری سب جنرلوں کو روسٹرم پر بلا کر خواجہ “علم عدل” بلند کرتا رہا۔ یکے بعد دیگرے جنرل روسٹرم پر آئے تو خواجہ نے کہا نام بولئیے۔۔۔! احتشام، خواجہ کا آہنگ اور بلند ہوگیا، پورا نام لیجئیے ۔۔۔ جنرل بولے جی میں احتشام ضمیر ہوں ۔۔۔
یوں لگا جیسے خواجہ کو پر لگ گے، بولا اچھا اچھا آپ وہ جنرل ہو جو پرویز مشرف کے دور میں لوگوں کے ضمیر کی خرید و فروخت کرکے پارلیمان کا نظام چلاتے تھے۔ ؟
کچھ سال پہلے تک جس احتشام کے اشارہ ابرو پر بڑے بڑے کورنش بجا لاتے تھے ، آج وہ جنرل مجھے بہت بے بس نظر آیا۔ شام کو صحافتی مجلس سجی تو میں نے آنکھوں دیکھی روداد بیان کی ، جنت مکانی استاد آستینیں چڑھا کر بولے “منے تو گواہ ہے کہ میں نے حمید گل کو کہاتھا آپ وردی میں لکھ اور بنا وردی ککھ ہوتے ہو ۔ خولہ بی بی کا نوٹیفیکیشن مجھے ماضی کی بھول بلائیوں میں لے گیا۔ پھر ان ان کانوں نے یہ سُنا کہ کوئی صاحب آئے ہیں جن کا فیض بہت عام ہے، جن کے “رحمت” (اسٹنٹ ڈائریکٹر مرکز طاقت) نے پیرنی تراشی ۔۔۔ پھر فیض ہی نہیں فیوض عام ہوگے۔ خان بلند ہوتا گیا اور میاں کو زمین پر لگا دیا گیا۔ یہ وقت بھی گزر گیا۔

*شکیل احمد ترابی*
جنرل ہیڈکوارٹر میں عاصم منیر کو باجوہ نے چھڑی سونپی تو رسم دنیا کے مطابق آنے جانے والے جنرل سے شرکاء مجلس ہاتھ ملا کر رُخصت ہوتے ہیں۔ ہم اس “سعادت” سے محروم رہ گے کہ جنرل کیانی نے میرا ہاتھ تھام لیا، اُنھوں نے چھوڑا نہ میں نے چھڑانے کی گستاخی کی۔ میرے صحافی دوست خالد محمود اور محترمہ عاصمہ شیرازی بھی موجود تھے۔ ہم گیٹ سے نکلنے لگے تو دھیمی آواز میں کوئی بولا “ترابی صاحب! ہم بھی ادھر موجود ہیں، میرے صحافی بھائی اللہ بخشے جاوید شہزاد نے زور سے مجھے کہا کہ جنرل صاحب آپ کو بُلا رہے ہیں۔ میرے لئے یہ صاحب انجان تھے ، سینے پر لگے نام کے بیج کو پڑھنے لگا تو بولے اسے چھوڑئیے میں ڈرٹی ہیئری ہوں۔ میں نے کہا آپ کا نام تو بہت خوبصورت ہے کہنے لگے وہ بولتا تو آپ پہچان نہ پاتے ۔ فیصل صحافی دوستوں کو اپنا نمبر لکھوا رہے تھے، جاوید شہزاد کو میں نے کہا مجھے بھی نمبر دے دینا۔ جنرل بولے فکر نہ کیجئے میں آپ کے دفتر پہنچنے تک آپ کو خود واٹس ایپ پر پیغام بھیج دونگا۔ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ شاید بعد میں اُن کو کسی نے ڈی بریف کیا اور ہماری یہ ملاقات پہلی اور آخری ثابت ہوئی۔ بیچ میں دوتین فون کالز کا تبادلہ اس وقت ہوا جب جناب حافظ نعیم تواتر سے ایک ہی بات کہتے تھے کہ “میئر تو جماعت اسلامی کا ہوگا۔” فیصل نصیر صاحب سے واٹس ایپ اور ایک برگیڈئیر صاحب کے ذریعے کراچی کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق بات ہوئی ۔ اسٹیبلشمنٹ عددی اعتبار سے سب سے بہتر پوزیشن ہولڈر جناب حافظ نعیم الرحمن کو مئیر کے عہدے سے دستبردار کرانے کے درپے تھی، اسی سلسلہ میں میری “خدمات” درکار تھیں، مگر میں ایک غیر اخلاقی و قانونی اقدام پر ان کا معاون کیوں بنتا۔؟ ایک بار تو فیصل حرم مکی میں موجود تھے، طے پایا کہ اُن کی واپسی پر ملاقات ہوگی۔ واپس آکر کسی نے انھیں کہا ہوگا کہ “بیکار آدمی” سے مل کر کیا کرینگے۔ پھر انھوں نے یاد کیا نہ ہی ہمیں اشتیاق ملاقات ہوا۔ آج کے نوٹیفیکیشن کے بعد اُن کے دفتر کی جانب رواں دواں گاڑیوں کے رُخ مُڑ گئے ہونگے اور پھولوں کے گلدستوں پر نئے نام کیساتھ بالیشتئیے و خوشامدئیے جلد رواں دواں ہونگے۔ جانے اور آنے والے بھول جاتے کہ طاقت سے بے طاقتی کا یہ سفر کتنا جلد طے پا جاتا ہے۔ فیصل کے فیصلوں اور اقدامات سے کئی زمین سے آسمان پر پہنچے ، کوئی پسِ دیوار زنداں ہوا تو کسی پر ملک کے بند دروازے پھر کُھل گے۔ حقیقت میں تو اللہ دنوں کو پھیرتے رہتے ہیں وگرنہ زمین فساد سے بھر جائے۔ کاش ہمیں کوئی لعل نصیب ہو جو ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ فصیل ڈھا دے اور کوئی عادل میسر آجائے کہ عدل معاشرے کے بے بس کو بھی مل جائے۔ ہمارے آباء نے تو ایسے پاکستان کا خواب دیکھا تھا، بے بہا قربانیاں دیں تھیں، ملک حاصل ہوگیا مگر ہم مقاصد حاصل نہ کر پائے۔ پاکستان کو پاکستان بنانے کی جدوجہد تو جاری ہے اور ہم جیسے سرپھرے یہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔
(لوحِ ایام — )

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں