لاہور : ایم ایم این
آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ ن کو اکثریت حاصل ہے، تاہم وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے نام پر حتمی فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا۔
مسلم لیگ ن کی جانب سے بیرسٹر افتخار گیلانی کو ٹیکنوکریٹ نشست پر نامزد کیے جانے کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
بیرسٹر افتخار گیلانی کا نام اب وزارتِ عظمیٰ کے لیے زیرِ غور امیدواروں میں شامل بتایا جا رہا ہے۔
اہم سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف روایتی سیاسی امیدوار کے بجائے ٹیکنوکریٹ کو آزاد کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ سونپنے کا فیصلہ کریں گے؟
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو ٹیکنوکریٹ نشست پر نامزد کردیا ہے، جس کے بعد اگر وہ اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے ہیں تو وزارتِ عظمیٰ کے لیے ان کی نامزدگی کا آئینی راستہ موجود ہوگا۔
تاہم ن لیگ کے اندر وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے حوالے سے مشاورت جاری ہے، مختلف نام زیرِ غور ہیں اور حتمی فیصلہ پارٹی قیادت، بالخصوص نواز شریف کی منظوری سے متوقع ہے۔
سیاسی حلقوں میں بیرسٹر افتخار گیلانی کے نام کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ ٹیکنوکریٹ نشست سے ایوان میں آنے کی صورت میں حکومت سازی کے فارمولے کا حصہ بن سکتے ہیں۔
اگر ن لیگ کی قیادت کسی غیر متنازع اور نسبتاً تکنیکی پس منظر رکھنے والی شخصیت کو آگے لانے کا فیصلہ کرتی ہے تو بیرسٹر افتخار گیلانی ایک اہم آپشن ہوسکتے ہیں۔
تاہم فی الحال ان کا نام وزارتِ عظمیٰ کے لیے زیرِ غور امیدوار کے طور پر لیا جا رہا ہے، حتمی نام کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔
آزاد کشمیر میں حکومت سازی کا فیصلہ کن مرحلہ قریب آتا جا رہا ہے، مخصوص نشستوں کے بعد نمبر گیم بھی مزید واضح ہوگئی ہے۔
اب نظریں نواز شریف کے فیصلے پر ہیں کہ وزارتِ عظمیٰ کے لیے شاہ غلام قادر، طارق فاروق سمیت کسی منتخب سیاسی رہنما کو سامنے لایا جاتا ہے یا ٹیکنوکریٹ بیرسٹر افتخار گیلانی کو نئی حکومت کی قیادت کا موقع دیا جاتا ہے۔



