آر ایس ایس سربراہ کا متوقع دورہ امریکہ، سکھ تنظیموں کا احتجاج،امریکی وزیر خارجہ کو خط لکھ دیا

اسلام آباد: ایم این این
امریکی سکھ تنظیموں نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے آئندہ دورہ امریکا پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ان کے امریکا میں داخلے کی اجازت نہ دینے کا مطالبہ کر دیا۔امریکن سکھ کاکس کمیٹی، سکھ کوآرڈینیشن کمیٹی ایسٹ کوسٹ اور امریکن گردوارہ پربندھک کمیٹی کی جانب سے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ موہن بھاگوت 25 اگست یا اس کے آس پاس امریکا کا دورہ کرنے والے ہیں، جبکہ 29 اگست کو نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ایک بڑے عوامی پروگرام میں شرکت بھی متوقع ہے۔خط میں سکھ تنظیموں نے آر ایس ایس اور اس سے منسلک تنظیموں پر بھارت میں مذہبی اقلیتوں، خصوصاً سکھوں، مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تشدد، امتیازی سلوک اور مبینہ ظلم و ستم کو فروغ دینے کے الزامات عائد کیے ہیں۔امریکی سکھ تنظیموں کا کہنا ہے کہ امریکا میں مقیم سکھ بھی آر ایس ایس اور بھارتی حکومت سے منسلک عناصر کی جانب سے مبینہ بین الاقوامی دباؤ، دھمکیوں اور خوف زدہ کرنے کی کارروائیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ آر ایس ایس سربراہ کو امریکی سرزمین پر داخل ہونے اور اعلیٰ سطح پر پذیرائی ملنے سے ایک تشویشناک پیغام جائے گا، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکی حکام اور مذہبی آزادی سے متعلق ادارے آر ایس ایس کے کردار پر خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔سکھ تنظیموں نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ موہن بھاگوت کو سفارتی سہولت یا اعلیٰ سطح تک رسائی نہ دی جائے۔خط پر امریکن سکھ کاکس کمیٹی، سکھ کوآرڈینیشن کمیٹی ایسٹ کوسٹ اور امریکن گردوارہ پربندھک کمیٹی کے نمائندوں کے دستخط ہیں اور یہ خط 20 اگست 2026 کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ارسال کیا گیا

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں