امریکا کے ایران میں تازہ حملے، تہران کا سخت جوابی کارروائی کا اعلان

تہران/اسلام آباد/واشنگٹن (ایم این این): مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکا نے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) سے منسلک اہداف پر تازہ حملے کیے ہیں، جبکہ تہران نے واشنگٹن کو سخت جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق تازہ حملے مبینہ طور پر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور خطے میں تعینات امریکی فوجیوں پر آئی آر جی سی کی جانب سے حملوں کی کوششوں کے بعد کیے گئے۔

سینٹ کام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی کارروائی حالیہ مبینہ ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محمدی نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ امریکا کو اس کارروائی کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ جارح قوتوں کو سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا اور امریکا اپنے نئے حملوں پر پچھتائے گا۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن آئی آر آئی بی کے مطابق بندر عباس کے مشرقی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

رپورٹس کے مطابق قشم جزیرے کے علاقے میں واقع گاؤں ماسان کے اطراف پانچ سے زائد دھماکے ہوئے، جبکہ آبنائے ہرمز کے قریب بھی چار دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

صوبہ ہرمزگان کے حکام کا کہنا ہے کہ فوری طور پر کسی جانی نقصان یا بڑے واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔

دوسری جانب ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے نائب گورنر کے مطابق چابہار اور کنارک کے علاقوں میں چار میزائل یا پروجیکٹائل گرے۔

ایک امریکی اہلکار نے الجزیرہ کو بتایا کہ ایران کے اندر آئی آر جی سی سے منسلک اہداف پر امریکی فوجی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکی محکمہ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے انہیں غیر معمولی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔

الرٹ میں ممکنہ پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی بندش اور سفری رکاوٹوں سے خبردار کیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے جاری امریکی حملوں کا جواب دیا تو اسے مزید سخت اور بڑے حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے ایران کے خلاف اپنی مبینہ ناکہ بندی مزید سخت کی تو تہران فوجی جواب دے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر دشمن ہمیں خلیج فارس سے تیل برآمد کرنے سے روکتا ہے تو پھر کسی کو بھی تیل برآمد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی بحری کارروائیوں کے دوران 84 تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کیا گیا، تین جہازوں کو غیر فعال کیا گیا جبکہ دو جہازوں پر امریکی فورسز نے چڑھائی کی۔

تاہم محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فورسز اب بھی آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتی ہیں اور امریکا کی جانب سے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی کوششوں کی مزاحمت کر رہی ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) نے بھی ایران اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تنظیم نے اپنے اعلامیے میں ایران کی سرزمین پر فوجی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں اور ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

دریں اثنا، ایران کی فضائی دفاعی فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علیرضا الہامی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے مقامی طور پر تیار کردہ فضائی دفاعی نظام نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران 200 دشمن طیارے مار گرائے۔

بریگیڈیئر جنرل محمد صادقیان نے بتایا کہ ملک بھر میں تقریباً 3,800 مقامات پر فضائی دفاعی نظام تعینات کر دیے گئے ہیں۔

خطے میں صورتحال بدستور انتہائی کشیدہ ہے، جبکہ امریکا اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات اور جاری فوجی کارروائیوں نے وسیع تر علاقائی جنگ کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں