اسلام آباد: ایم این این
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے معاملے پر تحریک انصاف نے احتجاجی تحریک کو مزید تیز کرنے کی تیاری شروع کر دی، جبکہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر اسلام آباد لانگ مارچ اور ڈی چوک پر دھرنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو اسلام آباد کی جانب مارچ اور احتجاجی سرگرمیوں کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔ پارٹی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی تحریک کو فیصلہ کن مرحلے میں داخل کیا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے اسلام آباد میں احتجاج اور دھرنے کی حکمت عملی پر پارٹی کے اندر مشاورت جاری ہے، جبکہ کارکنوں کو بھی اسلام آباد پہنچنے کے لیے تیار رہنے کا کہا گیا ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کی قیادت نے 27 ستمبر کو احتجاج اور لانگ مارچ کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ ذرائع کے مطابق احتجاج کے حوالے سے پارٹی کی مرکزی قیادت، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان اور دیگر رہنماؤں کے درمیان مشاورت جاری ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق احتجاجی لائحہ عمل کے حوالے سے حتمی حکمت عملی آئندہ دنوں میں سامنے آنے کا امکان ہے، جبکہ کارکنوں کو احتجاج کے لیے منظم کرنے اور مختلف اضلاع سے قافلوں کی روانگی کے انتظامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ادھر عمران خان کی صحت کے معاملے پر بھی تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو علاج اور طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے، جبکہ حکومت کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔
تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ عمران خان کی رہائی اور قانونی حقوق کے حصول کے لیے احتجاج جاری رکھا جائے گا، جبکہ آئندہ کا سیاسی لائحہ عمل پارٹی قیادت کی مشاورت سے طے کیا جائے گا۔



