اسلام آباد (ایم این این): وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر ہونے والے حالیہ بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان برادر ملک سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی استحکام کے لیے ہر سطح پر اس کے ساتھ کھڑا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب پر حملے قابلِ مذمت ہیں اور یہ مملکت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جو پورے خطے کے امن و استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس نازک وقت میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور مملکت کی سلامتی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام، سلامتی اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے ہر مخلصانہ کوشش کی حمایت جاری رکھے گا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سعودی عرب نے اعلان کیا کہ اس نے پیر کے روز یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے جنوبی سعودی عرب کی طرف داغے گئے بیلسٹک میزائل کامیابی سے تباہ کر دیے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے، جبکہ ستمبر 2025 میں دونوں ممالک نے ریاض میں اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
پیر کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں بھی پاکستان نے سعودی عرب کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ یمن تنازع کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کریں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب پر بیلسٹک میزائل حملوں کی سخت مذمت کی اور مملکت کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
پاکستان نے اپنے مؤقف میں سعودی عرب کی سلامتی کی حمایت، یمن کی خودمختاری کے احترام اور تنازع کے پائیدار سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا۔
یمن میں کشیدگی میں نیا اضافہ
یمن 2014 سے خانہ جنگی کا شکار ہے، جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں فوجی کارروائی شروع کی۔
تازہ کشیدگی کے دوران یمنی حکومت نے صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کا مقصد ایرانی طیارے کو اترنے سے روکنا تھا، کیونکہ تہران میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے بعد واپس آنے والے حوثی وفد نے یمن کی قومی ایئرلائن کی پرواز استعمال کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
اس واقعے کے چند گھنٹوں بعد سعودی عرب نے اعلان کیا کہ اس نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کو جنوبی سرحد پر ناکام بنا دیا۔
یہ حالیہ جھڑپیں گزشتہ کئی برسوں میں یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان سب سے بڑی کشیدگی قرار دی جا رہی ہیں۔ حوثیوں نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ 2022 سے جاری اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔



