اسلام آباد: ایم این این
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی اور سرپرستی میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان زرعی اور غذائی تحفظ کے شعبے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
سعودی وزیرِ ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمٰن اے۔ الفضلی کی قیادت میں سعودی اعلیٰ سطحی وفد نے 26 سے 28 اگست 2026ء تک اسلام آباد کا دورہ کیا، جس کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان زرعی و غذائی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے اہم مذاکرات ہوئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی وفد سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ زرعی تعاون، سرمایہ کاری اور غذائی تحفظ کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
مذاکرات کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان زرعی اور غذائی تحفظ کی شراکت داری کے فروغ کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا۔
دونوں ممالک نے آئندہ دو برس کے دوران پاکستان کی زرعی اور غذائی مصنوعات کی سعودی عرب کو برآمدات 3 ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے کا مشترکہ ہدف مقرر کیا ہے۔
اس مقصد کے لیے چاول، سرخ گوشت، پھل اور ان کے کنسنٹریٹس، سبز چارہ اور پانی کے مؤثر استعمال پر مبنی زرعی ٹیکنالوجیز کو ترجیحی شعبے قرار دیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے 2025ء میں سعودی عرب کو تقریباً ایک لاکھ 69 ہزار ٹن چاول برآمد کیے، جن کی مالیت تقریباً 163 ملین ڈالر رہی۔
سعودی فریق نے پاکستان سے چاول کی درآمد میں مزید اضافے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
سرخ گوشت کے شعبے میں پاکستان اس وقت سعودی عرب کو سالانہ تقریباً 30 ہزار ٹن سرخ گوشت فراہم کر رہا ہے، جس کی مالیت تقریباً 167 ملین ڈالر ہے۔
سعودی وفد نے پاکستان سے سرخ گوشت کی درآمد کو بتدریج دوگنا کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
دونوں ممالک نے پھلوں اور ان کے کنسنٹریٹس کی تجارت بڑھانے کے وسیع امکانات کو بھی تسلیم کیا، جبکہ نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط، میچ میکنگ اور معیار کی سرٹیفکیشن کی باہمی منظوری کے لیے اقدامات کی حوصلہ افزائی پر اتفاق کیا گیا۔
سعودی فریق نے سبز چارے کو طویل المدتی سپلائی پارٹنرشپ کے لیے ایک امید افزا شعبہ قرار دیا۔
دونوں ممالک نے بھکر، پنجاب میں پانی کے مؤثر استعمال پر مبنی آبپاشی پروگرام کے پہلے مرحلے کی کامیاب تکمیل کا خیرمقدم کیا، جبکہ چھوٹے کاشتکاروں کے لیے دوسرے مرحلے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔
سعودی وفد نے پاکستان کو انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل میں شمولیت کی ترغیب دی، جس کا پاکستانی جانب سے خیرمقدم کیا گیا۔
مذاکرات میں لائیو اسٹاک، ایگری فوڈ پراسیسنگ اور چاول کی ویلیو چین میں پاکستانی نجی شعبے کی سرمایہ کاری تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا اور ان منصوبوں پر رابطہ کاری جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
دونوں ممالک نے اپنی وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اکتوبر میں ریاض میں ہونے والی 43ویں سعودی ایگریکلچر نمائش میں پاکستان کی شرکت کی دعوت کا خیرمقدم کیا۔
پاکستان اور سعودی عرب نے مذاکرات کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے طے شدہ مفاہمتوں کو عملی شکل دینے کے لیے رابطہ اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔



