پاک چین گلیشیر مشترکہ تہذیب اور قدرتی ورثہ قرار

گلیشیئرز کے تحفظ کے لیے مشترکہ سائنسی تحقیق اور علاقائی تعاون ناگزیر ہے،ڈاکٹر مصدق ملک

بیجنگ: ایم این این

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے پانچویں چائنا شی زانگ ٹرانس ہمالیہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین ہر اچھے اور مشکل وقت میں پاکستان کا قابلِ اعتماد دوست رہا ہے، جبکہ پاکستان اور چین کے گلیشیئرز مشترکہ قدرتی ورثہ اور ہماری تہذیب کا اہم حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث سیلاب، خشک سالی اور دیگر موسمیاتی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ پندرہ برسوں میں پاکستان میں سیلابوں کے نتیجے میں تقریباً چھ ہزار افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث تقریباً چار کروڑ افراد بے گھر اور ایک ارب اسی کروڑ تعلیمی دن ضائع ہوئے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے زور دیا کہ گلیشیئرز کے تحفظ کے لیے مشترکہ سائنسی تحقیق اور علاقائی تعاون ناگزیر ہے، جبکہ ہمالیائی خطے کے ممالک کو موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔

وفاقی وزیر نے خطے کے لیے ورچوئل گرین یونیورسٹی، نوجوانوں کے لیے گرین فیلڈز اقدام اور سرکاری جامعات کی سائنسی تحقیق کے لیے گرین کلاؤڈ پلیٹ فارم قائم کرنے کی تجاویز بھی پیش کیں۔ ان کے مطابق یہ اقدامات گلیشیئرز، موسمیاتی تبدیلی، پائیدار ترقی، گرین اسٹارٹ اپس، قابلِ تجدید توانائی اور ماحول دوست ٹیکنالوجیز کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ شی زانگ میں ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے امتزاج سے دنیا کو سیکھنے کی ضرورت ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے اجتماعی ذمہ داری، مشترکہ تحقیق اور بین الاقوامی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں