اسلام آباد (ایم این این)؛ پمز میں پیش آنے والے آتشزدگی کے المناک سانحے کی تحقیقات کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آگئی، انکوائری کمیٹی نے اپنی دوسری رپورٹ بھی تیار کرلی۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی کی تحقیقات میں واقعے کے مختلف تکنیکی، انتظامی اور دیگر متعلقہ پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ دستیاب شواہد اور واقعے سے جڑے حقائق کو بھی جانچا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے آتشزدگی کے ممکنہ اسباب کا جدید تقاضوں کے مطابق جائزہ لیا، جس دوران اے سی سسٹم میں ٹرپنگ کے باعث آگ لگنے کا امکان سامنے آیا۔
ذرائع کے مطابق اے سی سسٹم میں ٹرپنگ کے بعد مبینہ طور پر اچانک آگ بھڑکی اور آنا فانا روم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
انکوائری کے دوران واقعے میں انتظامی غفلت کے پہلو کو بھی نمایاں کیا گیا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق مجموعی شواہد کی بنیاد پر واقعے کو حادثاتی قرار دیے جانے کے اشارے مل رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اگر حتمی رپورٹ میں واقعے کو حادثہ قرار دیا گیا تو معطل افسران یا کسی دوسرے فرد کے خلاف فوجداری کارروائی کی سفارش نہ کیے جانے کا امکان ہے۔
تاہم انتظامی غفلت یا محکمانہ کوتاہی کے حوالے سے متعلقہ افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کیے جانے کا امکان موجود ہے۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ مکمل کرنے کے بعد حتمی رپورٹ تیار کر رہی ہے، جس میں واقعے کے اسباب، انتظامی خامیوں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات شامل ہوں گی۔
انکوائری کمیٹی کی حتمی رپورٹ جلد وزیراعظم ہاؤس بھجوائے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں آئندہ کارروائی سے متعلق حتمی فیصلہ متوقع ہے۔
واضح رہے کہ واقعے کو حادثہ قرار دینے اور کسی فرد کے خلاف کارروائی نہ کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ انکوائری کمیٹی کی مکمل رپورٹ اور مجاز حکام کی منظوری کے بعد ہی سامنے آئے گا۔



