جدہ/اسلام آباد (ایم این این): کثیرالملکی مشترکہ بحری اتحاد کمبائنڈ میری ٹائم فورسز نے اپنے کمانڈ ہیڈکوارٹرز سے عملی نفاذ کے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے، جہاں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کموڈور راشد شیخ نے اتحاد کے ڈپٹی کمانڈر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔
یہ پیش رفت کثیرالملکی بحری اتحاد کے عملی اور انتظامی ڈھانچے کو فعال بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے، جس کا مقصد مختلف ممالک کے درمیان بحری سلامتی اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
اعلامیے کے مطابق متعدد رکن ممالک کے رابطہ افسران بھی کمانڈ ڈھانچے میں شامل ہونا شروع ہو گئے ہیں، جبکہ کئی دیگر ممالک اتحاد میں شمولیت کے لیے ضروری قانونی اور انتظامی مراحل مکمل کر رہے ہیں۔
رابطہ افسران کو ہر ملک کے لیے مختص تعداد اور کوٹے کے مطابق مرحلہ وار اور براہ راست تعینات کیا جا رہا ہے، جس سے ایک مربوط اور منظم کثیرالملکی کمانڈ سسٹم تشکیل دیا جا رہا ہے۔
کموڈور راشد شیخ کی ڈپٹی کمانڈر کے طور پر تعیناتی عالمی اور علاقائی بحری سلامتی کے شعبے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
پاکستان ماضی میں بھی مختلف بین الاقوامی بحری مشنز اور کثیرالملکی بحری کارروائیوں میں فعال کردار ادا کرتا رہا ہے۔
پاکستان نیوی نے سمندری قزاقی، دہشت گردی، اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف بین الاقوامی بحری کارروائیوں میں بحری جہاز، افرادی قوت اور سینئر افسران فراہم کیے ہیں۔
کمبائنڈ میری ٹائم فورسز ایک کثیرالملکی بحری شراکت داری ہے، جس کا بنیادی مقصد اہم بین الاقوامی سمندری راستوں میں سلامتی، استحکام اور بحری جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔
ماضی میں اس نوعیت کے کثیرالملکی بحری تعاون میں بحیرہ عرب، خلیج عمان، خلیج عدن اور مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور افریقہ کو ملانے والے اہم سمندری راستوں کی سلامتی پر خصوصی توجہ دی جاتی رہی ہے۔
اتحاد کے عملی نفاذ کے مرحلے سے توقع ہے کہ رکن ممالک کے درمیان رابطہ کاری، معلومات کے تبادلے اور مشترکہ آپریشنل منصوبہ بندی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
مزید ممالک کی ممکنہ شمولیت سے اتحاد کا دائرہ کار وسیع ہونے اور ابھرتے ہوئے بحری سلامتی کے چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ ہونے کی توقع ہے۔
حالیہ برسوں میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات اور اہم عالمی سمندری راستوں کی بڑھتی ہوئی تزویراتی اہمیت کے باعث بحری سلامتی ایک اہم عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔
ایسے حالات میں کثیرالملکی بحری فورسز کی تعیناتی اور مربوط کمانڈ سسٹم کے قیام کو تجارتی بحری جہازوں کے تحفظ اور عالمی تجارت کے تسلسل کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی اس اتحاد میں فعال شرکت سے بحری سفارت کاری کو مزید تقویت ملنے اور دوست و شراکت دار ممالک کے ساتھ دفاعی اور بحری تعاون بڑھنے کی توقع ہے۔
کموڈور راشد شیخ کے ڈپٹی کمانڈر کا عہدہ سنبھالنے اور مختلف ممالک کے رابطہ افسران کی کمانڈ ہیڈکوارٹرز میں تعیناتی کے ساتھ، کثیرالملکی مشترکہ بحری اتحاد نے اپنے تعاون اور آپریشنل فریم ورک کے عملی نفاذ کی جانب اہم پیش رفت کر لی ہے۔



