ہوم سیکریٹری کے ایکشن کمیٹی پر سنگین الزامات، بلاول بھٹو کی مفاہمتی کمیشن قائم کرنے کی تجویز

مظفرآباد (ایم این این): آزاد جموں و کشمیر کے ہوم سیکریٹری چوہدری گفتار حسین نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) پر ریاست مخالف پروپیگنڈا، عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے اور امن و امان خراب کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت قانون کی عملداری اور شہریوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہوم سیکریٹری نے کہا کہ کالعدم تنظیم نے بے بنیاد دعوؤں اور منظم پروپیگنڈے کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تنظیم نے خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا، طلبہ کو تعلیم سے دور رکھا اور سڑکیں بند کر کے معمولات زندگی متاثر کیے، جو کشمیری روایات اور اقدار کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جے اے اے سی نے پاکستان آرمی اور ریاستی اداروں کے خلاف بیانیہ تشکیل دینے، پاکستان اور آزاد کشمیر کے تاریخی تعلقات کو نقصان پہنچانے اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی۔ ان کے بقول حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔

ہوم سیکریٹری نے کہا کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 27 جولائی کو شیڈول کے مطابق ہوں گے اور انتخابی مہم معمول کے مطابق جاری ہے۔

آزاد کشمیر پولیس کے ترجمان عرفان مسعود کاشف نے بتایا کہ سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹانے اور ٹریفک بحال کرنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شجاع آباد کوٹیرا روڈ کو کھول دیا گیا ہے جبکہ تمام مرکزی شاہراہیں بحال ہونے تک آپریشن جاری رہے گا۔

حالیہ جھڑپوں میں دو قانون نافذ کرنے والے اہلکار شہید جبکہ جے اے اے سی کے سات کارکن جاں بحق ہوئے تھے۔ حکومت نے تنظیم کو کالعدم قرار دینے کے بعد اس کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تھا۔

بلاول بھٹو کی مفاہمت اور سیاسی مذاکرات کی تجویز

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو اس سے مسئلہ کشمیر اور پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

آزاد کشمیر انتخابات کے سلسلے میں پارٹی رہنماؤں اور امیدواروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر کشمیری کو اپنے سیاسی، معاشی اور آئینی مطالبات پرامن انداز میں اٹھانے کا حق حاصل ہے، تاہم احتجاج پرامن رہنا چاہیے اور کسی بھی شہری کو محض اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے پر ریاست مخالف قرار نہیں دینا چاہیے۔

بلاول بھٹو نے تمام فریقین کی مشاورت سے ایک ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن (حقیقت و مفاہمتی کمیشن) قائم کرنے کی تجویز دی تاکہ حالیہ واقعات، معاہدوں پر عملدرآمد، درج مقدمات اور تمام فریقین کے تحفظات کا غیرجانبدارانہ جائزہ لے کر ایک دیرپا سیاسی حل تجویز کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں دونوں کے خلاف الزامات کی آزادانہ اور غیرجانبدار تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

بلاول بھٹو نے مظاہرین سے اپیل کی کہ اگر مفاہمتی کمیشن کے قیام پر اتفاق ہو جائے تو دھرنے، لانگ مارچ اور احتجاجی سرگرمیاں معطل کر دی جائیں، جبکہ حکومت بھی اس دوران مزید سخت اقدامات سے گریز کرے۔

انہوں نے حالیہ ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر کشمیری شہری اور ہر سکیورٹی اہلکار کی جان یکساں اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان کی تجویز وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

بلاول بھٹو نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ موجودہ حالات کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی 27 جولائی کو ہونے والے آزاد کشمیر انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی اور تمام مسائل کے حل کے لیے جمہوری اور پرامن راستہ اختیار کرے گی۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں