ہم مجبور ہیں، زیادہ آپشن بھی نہیں بچے

عاصم خان نیازی

مجھے یاد ہے کہ 2008 میں پیپلز پارٹی کے ساتھ بطور اتحادی جماعت اپنی راہیں جدا کرنے کے بعد پنجاب یاؤس میں منعقد ہونے والے ایک اہم مشاورتی اجلاس مسلم لیگ ن کے قائد جناب محمد نواز شریف نے بہت واضح طور پر یہ اصول وضع کیا تھا کہ اقتدار بنا اختیار کے آپ کے لئیے سیاسی تباہی کے کر آتا ہے، ہم کبھی ایسے اقتدار کو قبول نہیں کرینگے نہ ہی ایسی حکومت کا حصہ بنیں گے جس میں اتحادی جماعتوں کی بیساکھیوں کا سہارا لینا پڑے اور قدم قدم پر بارگیننگ اور بلیک میلنگ کا سامنا کرنا پڑے۔ انہوں نے یہ اصول بھی ہمیشہ کے لئیے وضع کیا تھا کہ مسلم لیگ ن مستقبل میں محض وزارتوں کی خاطر کسی اقتدار کا حصہ نہیں بنے گی، اس کے بجائے یہ زیادہ مناسب ہوگا کہ ہم اس جماعت کی اکثریت برقرار رکھنے کے لئیے ووٹ کے ذریعے اپنی سپورٹ اس وقت تک حکومت وقت کے ساتھ رکھیں جب تک وہ مفاد عامہ کے لئیے کام کرتی رہے۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ انہوں نے یہاں تک فرمایا تھا کہ اب نواز شریف اور مسلم لیگ ن اقتدار سے زیادہ اقدار کی سیاست کیا کرے گی۔ یہی وجہ تھی کہ کہ جب 2009 میں صدر آصف زرداری نے بفضل محال ججز بحال کر دئیے تو انہوں نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں شرکت کے لئیے ن لیگ کو پھر سے کابینہ میں شرکت کی باضابطگی دعوت دی تو نوازشیف صاحب نے بزعم خود اپنے وفد کی قیادت کرتے ہوئے حکومت میں شمولیت سے انکار کیا اور ساتھ یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ مسلم لیگ ن عددی اکثریت کے لئیے ہمیشہ اپنا وزن پیپلز پارٹی کے پلڑے میں ڈالے رکھے گی، پھر ہم نے دیکھا کہ اٹھارویں ترمیم بھی بہت باوقار انداز سے منظور ہوئی اور ملک بھر میں اس پر یکجہتی اور اتفاق رائے بھی دیکھنے میں ایا تاہم ن لیگ نے اقتدار میں شمولیت کو کبھی اپنا مطمح نظر نہ بنایا۔

2012 کے انتخابات کا اعلان ہوتے ہی ن لیگ کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر سے واضح کیا کہ ہم عوام سے دو تہائی اکثریت کی درخواست لے کر جائینگے تاکہ جس طرح پیپلز پارٹی کو اپنے پانچ سالہ اقتدار کے دوران اپنے اتحادیوں کی جانب سے جن مشکلات اور بلیک میلنگ کا سامنا رہا ہم نے وہ نہ کرنا پڑے اور ہم عوام کے لیے وہ کچھ کر سکیں جس کا ہم ان سے منشور میں وعدہ کریں گے۔

اس دوران چونکہ عمران خان ایک بہت بڑی قوت کے ساتھ خود نواز شریف صاحب کے متبادل کے طور پر پورے طمطراق کے ساتھ میدان میں اتر چکے تھے تو ان کے حوالے سے بھی مسلم لیگ نون اور بالخصوص نواز شریف صاحب پر بہت زیادہ دباؤ تھا کہ وہ پنجاب سمیت دوسروں صوبوں کے اندر پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ایک بسیط تر اتحاد تشکیل دیں جس میں چھوٹی علاقائی جماعتوں تک کو دعوت دی جائے اور مذہبی سیاسی جماعتوں کو بھی ساتھ ملایا جائے، تو ہم نواز شریف صاحب نے اس دباؤ کو بھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے اکیلے انتخابات میں اترنے کا فیصلہ کیا اور تمام تر مشکلات اور الزامات کے باوجود انتخابات جیتے اور وفاق میں حکومت قائم کی جس کی اصل خوبی نواز شریف صاحب کا بطور وزیراعظم مکمل با اختیار ہونا تھا، پھر ان کا حشر کیا ہوا ہم نے 126 دن کے دھرنے اور اس کے بعد ان کی نااہلی تک مختلف صورتوں میں اپنی انکھوں سے یہ سب ملاحظہ کیا تا ہم نواز شریف نے اپنے 2008 میں اپنائے گئے اصولی موقف سے ذرا بھی روگردانی نہ کی۔

لیکن جب 2022 میں ان قوتوں کے ساتھ مل کر عمران خان کو نکالا اور بجائے اصلاحات کی فورا بعد انتخابات کا راستہ اختیار کیا جاتا جب اسمبلی کی مدت پوری کرنے پر اصرار کیا گیا اور بعد ازاں انتہائی متنازع انتخابات کے نتیجے میں اقتدار میں بھی اگ ہے تو اج ان کا حشر ہمارے سامنے ہے۔ یہ سب تو نوشتہ دیوار ہے اور دیدہ بینا رکھنے والا شاید ہی کوئی ہو جسے موجودہ صورتحال یا انے والے وقتوں میں کیا ہونے والا ہے اس کا ادراک نہ ہو لیکن بس کیا کریں کہ ہم تو مجبور ہیں اور ہمارے پاس کچھ زیادہ اپشن بچے نہیں۔

میں نے اپنی اس تحریر میں جو کچھ بھی درج کیا ہے ان تمام واقعات کا چشم دید گواہ ہوں، کوئی ایک بات بھی دائیں بائیں سے سنی ہوئی نہیں بلکہ میں خود ان تمام اجلاسوں کا حصہ رہا۔ اپ چاہیں تو ان واقعات کی تصدیق اس وقت کی سینیئر مسلم لیگ کی قیادت جن میں چوہدری نثار علی خان، جاوید ہاشمی، خواجہ محمد اصف، اقبال ظفر جھگڑا، احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں