کوئٹہ (ایم این این): سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں 5 جولائی سے جاری انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے دوران مزید 23 دہشت گرد مارے گئے ہیں، جس کے بعد ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 102 ہو گئی ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق تازہ کارروائیوں میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 12 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران این-25 کراسنگ کے قریب فتنہ الہندوستان سے وابستہ دو دہشت گرد بھی مارے گئے۔
سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، دستی بم، موٹر سائیکل، موبائل فون، کالعدم تنظیم کے جھنڈے اور دیگر سامان بھی برآمد کیا۔
ریاست کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ دہشت گردوں کو فتنہ الخوارج جبکہ بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کو فتنہ الہندوستان قرار دیتی ہے۔
یہ کارروائیاں آپریشن شابان کے تحت جاری ہیں، جو بلوچستان میں حالیہ مہلک دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے شروع کیا گیا ایک وسیع پیمانے پر انسداد دہشت گردی اور انسداد شورش آپریشن ہے۔
پاکستان ٹیلی وژن کے مطابق پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور پولیس کی مشترکہ فضائی اور زمینی کارروائیاں بلوچستان بھر میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک صوبے سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
یہ آپریشن 5 جولائی کو کوئٹہ کے علاقے منگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن پولیس چوکی پر دہشت گرد حملے کے بعد شروع کیا گیا، جس میں دہشت گردوں نے دو ایس ایچ اوز سمیت 9 پولیس اہلکاروں کو شہید کیا جبکہ 18 اہلکاروں کو اغوا کر لیا تھا۔ بعد ازاں اغوا شدہ اہلکاروں کی لاشیں زرغون غر کے پہاڑی علاقے سے برآمد ہوئیں۔
سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق تازہ کارروائیوں کے بعد آپریشن شابان اور دیگر انٹیلی جنس کارروائیوں میں ہلاک دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 102 تک پہنچ گئی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاک فوج، بلوچستان ایف سی اور پولیس کو کامیاب کارروائیوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے اپنی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیت سے دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنا دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن کے لیے سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں تاریخ کا سنہری باب ہیں اور دہشت گردوں کے لیے ملک میں کہیں بھی پناہ کی جگہ نہیں ہوگی۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے بتایا کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر منگی ڈیم حملے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے خاندانوں کے لیے 11.1 ملین روپے امداد کی منظوری دے دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام انتظامی اور مالی مراحل تیزی سے مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ حکومت شہداء کے اہل خانہ کی مکمل سرپرستی کرے گی اور ان کے بچوں کے تعلیمی اخراجات بھی برداشت کرے گی۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے کوئٹہ میں نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے، جس میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک تھے، اس عزم کا اعادہ کیا کہ سول اور عسکری قیادت نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔
فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق 5 جولائی سے ہونے والے دہشت گرد حملوں اور بعد ازاں سیکیورٹی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 42 افراد شہید ہوئے، جن میں 27 پولیس اہلکار، 11 سیکیورٹی اہلکار اور چار شہری شامل ہیں۔



