او آئی سی خواتین کانفرنس: پاکستان کا خواتین کو بااختیار بنانے اور مساوی مواقع فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ

اسلام آباد (ایم این این): پاکستان نے خواتین کے حقوق، مساوی مواقع اور سماجی و معاشی ترقی میں ان کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پیر کو اسلام آباد میں منعقدہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی خواتین سے متعلق نویں وزارتی کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں مشترکہ اقدامات پر زور دیا۔

وفاقی وزیر قانون و انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے صرف خواتین کی کوششیں کافی نہیں بلکہ مردوں اور نوجوانوں کی فعال شمولیت بھی ناگزیر ہے تاکہ مساوات، احترام اور مشترکہ ذمہ داری کے اصولوں کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خواتین کو بااختیار بنانا صرف حکومتی پالیسی نہیں بلکہ آئینی ذمہ داری، قومی ترجیح اور اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ ایک اہم مقصد سمجھتا ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نیشنل جینڈر پالیسی فریم ورک، وژن 2025 اور وزیراعظم ویمن ایمپاورمنٹ پیکیج کے تحت خواتین کی قیادت، مالی شمولیت، کاروباری سرگرمیوں، انصاف تک رسائی، ڈیجیٹل سہولیات اور محفوظ کام کی جگہوں کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ او آئی سی کانفرنس کی سربراہی پاکستان کے لیے اعزاز سے زیادہ ایک ذمہ داری ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنا اور خواتین کی زندگیوں میں حقیقی بہتری لانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کانفرنس کی کامیابی صرف منظور ہونے والے اعلامیوں سے نہیں بلکہ ان عملی اقدامات سے جانچی جائے گی جو رکن ممالک واپس جا کر خواتین کی فلاح و ترقی کے لیے کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ او آئی سی ممالک میں خواتین معیشت، سائنس، تعلیم، کاروبار، سرکاری اداروں اور انسانی خدمت کے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں، تاہم لاکھوں خواتین اور بچیاں آج بھی ایسے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں جو ان کی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار میں رکاوٹ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری ذمہ داری صرف ان مشکلات کو تسلیم کرنا نہیں بلکہ انہیں ختم کرنا ہے تاکہ خواتین کو مساوی مواقع میسر آ سکیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے فلسطین، غزہ، افغانستان اور بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی خواتین کی استقامت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کا بااختیار ہونا صرف ترقی کے مواقع فراہم کرنے کا نام نہیں بلکہ انہیں تحفظ، عزت اور امید دینا بھی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان جدید سہولیات کو تعلیم، صحت، مالی شمولیت اور کاروباری مواقع میں خواتین کی رسائی بڑھانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، بصورت دیگر یہی ٹیکنالوجی نئی معاشرتی ناہمواریوں کو جنم دے سکتی ہے۔

سینیٹ کے چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک پائیدار ترقی حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنی نصف آبادی کو قیادت، فیصلہ سازی اور معاشی سرگرمیوں سے محروم رکھے۔

انہوں نے سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم قرار دیتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا، جبکہ نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کو خواتین کی تعلیم اور بااختیار بنانے کی عالمی علامت قرار دیا۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نے غریب خاندانوں کی مدد، خواتین کی مالی خودمختاری اور بچیوں کی تعلیم کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ، عدلیہ، سفارت کاری، سول سروس، صحافت اور کاروباری شعبوں میں خواتین کی بڑھتی نمائندگی کو بھی خوش آئند قرار دیا۔

انہوں نے صنفی تشدد کو خواتین کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جہاں تشدد اور امتیازی سلوک موجود ہو وہاں حقیقی بااختیاریت ممکن نہیں۔

پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ خواتین کو ترقیاتی منصوبوں کا صرف حصہ نہیں بلکہ قومی ترقی کی قیادت میں برابر کا شریک بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت کے اسکالرشپ اور لیپ ٹاپ پروگراموں میں تقریباً 60 فیصد مستفید ہونے والی طالبات ہیں، جبکہ “اپنی چھت اپنا گھر” اور “اپنا کھیت اپنا روزگار” جیسے منصوبے خواتین اور خاندانوں کی معاشی خودمختاری میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب مواقع برابر ہوں تو خواتین کو اپنی صلاحیت ثابت کرنے کے لیے کسی رعایت کی ضرورت نہیں رہتی۔

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی خواتین کو تعلیم، صحت، سرکاری خدمات، مالی سہولیات اور کاروباری مواقع تک آسان رسائی فراہم کر رہی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خواتین کو موبائل فون، انٹرنیٹ، ڈیجیٹل شناخت اور آن لائن تحفظ میسر نہ ہو تو یہی ٹیکنالوجی نئی عدم مساوات کو جنم دے سکتی ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایسی ڈیجیٹل پالیسیوں کو فروغ دے گا جو خواتین کو معاشی، سماجی اور سیاسی ترقی میں مساوی شریک بنائیں اور ملک کی مضبوط خواتین صرف استثنا نہیں بلکہ ایک معمول بن جائیں۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں