راولپنڈی (ایم این این): راولپنڈی کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور ٹرانسپورٹ یونین کے سرگرم کارکن ماجد ستی کے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم فرخ کھوکھر سمیت تین ملزمان کو عمر قید کی سزا سنا دی، جبکہ ایک ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افشاں اعجاز صوفی نے جوڈیشل کمپلیکس راولپنڈی میں مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا۔ فیصلے کے موقع پر عدالت کے اندر اور باہر سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔ دونوں فریقین کے اہل خانہ، وکلا اور حامی بھی بڑی تعداد میں عدالت میں موجود تھے۔
عدالت نے جرم ثابت ہونے پر مرکزی ملزم فرخ کھوکھر کو عمر قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ شریک ملزمان حیدر علی اور امیر حمزہ کو بھی عمر قید اور دس، دس لاکھ روپے جرمانے کا حکم دیا گیا۔ تاہم مقدمے میں نامزد ملزم وسیم کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا گیا۔
فیصلہ سنائے جانے کے فوراً بعد پولیس نے عدالت کے حکم پر ضمانت پر موجود فرخ کھوکھر کو کمرۂ عدالت سے گرفتار کر لیا، جبکہ دیگر دونوں سزا یافتہ ملزمان، جنہیں جیل سے عدالت لایا گیا تھا، دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
ماجد ستی کو 8 اگست 2022 کو راولپنڈی کے علاقے سکسٹھ روڈ پر فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کا مقدمہ تھانہ صادق آباد میں درج کیا گیا تھا۔ پولیس تحقیقات کے بعد فرخ کھوکھر اور دیگر ملزمان کو مقدمے میں نامزد کیا گیا اور طویل عدالتی کارروائی کے بعد عدالت نے تین ملزمان کو قصوروار قرار دے دیا۔
پولیس حکام نے فیصلے کو مؤثر تفتیش اور مضبوط استغاثہ کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اہم مقدمات میں مجرموں کو سزا دلانا انصاف کی فراہمی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
سزا یافتہ ملزمان کو پاکستان کے قانون کے مطابق فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل کا حق حاصل ہے۔



