مظفرآباد (ایم این این): آزاد جموں و کشمیر حکومت نے منگل کے روز کالعدم جموں و کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کی جانب سے داخلی اور خارجی راستوں پر قائم رکاوٹیں ختم کرنے کے لیے سکیورٹی آپریشن جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ریاست میں امن و امان خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ آزاد کشمیر چوہدری گفتار حسین نے کہا کہ کلیئرنس آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام شاہراہیں اور راستے مکمل طور پر کھول نہیں دیے جاتے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کی جان و مال کے تحفظ، معاشی، تعلیمی، تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کی بحالی اور ریاست میں مکمل معمولات زندگی کی واپسی کے لیے پرعزم ہے۔
سیکرٹری داخلہ نے خبردار کیا کہ حکومت کسی قسم کی دھمکی یا بلیک میلنگ قبول نہیں کرے گی اور قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے راولاکوٹ میں پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کالعدم جے اے اے سی کے مسلح عناصر نے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے اندھا دھند فائرنگ کی۔ پولیس اہلکار فائرنگ روکنے کے لیے آگے بڑھے تو ان پر خودکار ہتھیاروں اور دھماکا خیز مواد سے حملہ کیا گیا۔
ان کے مطابق واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رینجرز کی معاونت سے آپریشن شروع کیا، جس کے دوران ایک اہلکار شہید جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا۔
چوہدری گفتار حسین نے کہا کہ مسلح عناصر کے پاس جدید اسلحہ اور دھماکا خیز مواد موجود ہونے کے باعث آپریشن ناگزیر ہوگیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کالعدم تنظیم کے سربراہ خواجہ مہران نے ایک مرتبہ پھر ریاست کے داخلی راستے بند کرنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی، تاہم عوام کی اکثریت نے تنظیم سے لاتعلقی اختیار کر لی ہے اور وہ ریاست کو مفلوج کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی قسم کی دھمکی یا پروپیگنڈے کے سامنے نہیں جھکے گی اور امن و استحکام ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا۔
سیکرٹری داخلہ کے مطابق مسلسل احتجاج اور شاہراہوں کی بندش کے باعث سیاحت، تجارت، ٹرانسپورٹ اور دیگر معاشی سرگرمیوں کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ریاست بھر میں بینکاری نظام بحال کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سیکرٹری تعلیم نے کہا کہ کالعدم تنظیم مبینہ طور پر خواتین، بچوں اور طلبہ کو احتجاج میں شامل کر کے انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام تعلیمی اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ طلبہ کو کسی بھی پرتشدد احتجاج میں شرکت نہ کرنے دی جائے۔
حکومت نے منگل سے تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں اور میڈیکل کالجز دوبارہ کھولنے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق بحال ہو سکیں۔
یاد رہے کہ رواں ہفتے کالعدم جے اے اے سی کے ایک سابق مرکزی رہنما نے تنظیم کی قیادت سے راولاکوٹ لانگ مارچ اور دھرنے کی کال واپس لینے کی اپیل کی تھی، مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ طویل احتجاج سے ضلع پونچھ کے عوام شدید مشکلات کا شکار ہوئے اور متعدد قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔
گزشتہ ہفتے ارجہ اور راولاکوٹ کے درمیان مرکزی شاہراہ پر مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر حکومت نے 5 جون کو ہڑتال کی کال کے بعد جموں و کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا تھا، جس کے بعد مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے تنظیم کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔



