خطے میں بڑھتی کشیدگی سے ملکی معیشت متاثر ہونے کا خدشہ

وزیراعظم نے ہر ممکنہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری اور جامع لائحہ عمل اپنانے کی ہدایت کر دی۔

اسلام آباد : ایم این این

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت خطے میں بڑھتی کشیدگی کے ملکی معیشت پر ممکنہ اثرات اور سادگی و کفایت شعاری کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں سادگی و کفایت شعاری کے اقدامات پر رپورٹ پیش کی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں کشیدگی بڑھنے کے منفی اثرات سے مستقبل میں ملکی معیشت متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صورتحال میں غیر یقینی برقرار ہے، اس لیے ہر ممکنہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھی جائے اور بروقت اقدامات کے لیے جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے ملکی معیشت اس وقت مستحکم ہے، تاہم بدلتی علاقائی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اور مؤثر منصوبہ بندی ناگزیر ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ معاشی دباؤ کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔
وزیراعظم نے گزشتہ سادگی اور کفایت شعاری مہم میں عوام کے بھرپور تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ قوم نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، جس پر حکومت تہہ دل سے عوام کی مشکور ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کفایت شعاری کو قومی رویہ بنایا جائے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنا لیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مؤثر حکومتی حکمتِ عملی کے باعث ایندھن کی فراہمی کا نظام کامیابی سے برقرار رکھا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے سبسڈی کے ذریعے عام آدمی، موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کو تحفظ فراہم کیا، جس سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا گیا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، اویس خان لغاری، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی طارق باجوہ، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جبکہ خطے کی صورتحال کے تناظر میں معیشت کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں