اسلام آباد (ایم این این): وفاقی حکومت نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی تیل منڈی میں قیمتوں کے مسلسل اتار چڑھاؤ کے پیش نظر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر مقرر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے جمعہ کو وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر یہ فیصلہ کیا ہے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں شفافیت لائی جا سکے اور عالمی منڈی کے مطابق بروقت ردوبدل ممکن بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستانی عوام کی مشکور ہے جنہوں نے موجودہ علاقائی جنگ کے معاشی اثرات صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
علی پرویز ملک نے بتایا کہ آئندہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرے گی۔ اوگرا نہ صرف نئی قیمتیں جاری کرے گی بلکہ عالمی قیمتوں اور ان تمام عوامل کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے رکھے گی جن کی بنیاد پر ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مقرر کی جاتی ہیں۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ قیمتوں میں روزانہ ردوبدل سے عوام پر مالی دباؤ بڑھ سکتا ہے، تاہم اس اقدام سے قیمتوں کے تعین کا نظام زیادہ شفاف ہوگا اور عوام کو معلوم ہوگا کہ عالمی منڈی میں تبدیلیوں کے باعث قیمتوں میں اضافہ یا کمی کیوں کی جا رہی ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت اپنے اس وعدے پر قائم ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے کی صورت میں اس کا مکمل فائدہ عوام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں عالمی قیمتوں میں کمی کے بعد ڈیزل کی قیمت تقریباً 520 روپے سے کم ہو کر 300 روپے فی لیٹر کی سطح تک آئی تھی جبکہ پیٹرول کی قیمت میں بھی 70 سے 80 روپے فی لیٹر تک کمی کی گئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم لیوی اور کاربن سپورٹ لیوی اب بھی نسبتاً کم سطح پر ہیں، جبکہ حکومت بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے اور توانائی کے شعبے میں مزید شفافیت لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
علی پرویز ملک کے مطابق روزانہ قیمتوں کا تعین عالمی منڈی میں گزشتہ سات دن کی اوسط قیمت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نئے نظام کے تحت ملکی قیمتیں خودکار طریقے سے عالمی مارکیٹ کے مطابق ایڈجسٹ ہوں گی اور اس کے لیے کسی وزیر یا حکومتی منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ان کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے جو پاکستان کی جنگ کے بعد کی توانائی قیمتوں اور توانائی کے تحفظ (Energy Security) سے متعلق جامع حکمت عملی تیار کر رہی ہے۔ کمیٹی اب تک چار اجلاس منعقد کر چکی ہے اور آئندہ 15 سے 20 روز میں اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ کمیٹی پاکستان میں اسٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر قائم کرنے کے امکانات، درآمدی انحصار میں کمی، اور دوست ممالک و عالمی توانائی کمپنیوں کو پاکستان میں تیل ذخیرہ کرنے کی سہولت فراہم کرنے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے تیار کی جانے والی سفارشات اور توانائی کے مستقبل کا جامع منصوبہ آئندہ ہفتے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔



