اسلام آباد (ایم این این): ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے منگل کو وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں اہم ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم آفس (پی ایم او) کے مطابق ملاقات وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوئی، تاہم فوری طور پر ملاقات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ مبصرین کے مطابق یہ ملاقات مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے۔
اسکندر مومنی پیر کی شب اعلیٰ سطحی ایرانی وفد کے ہمراہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے، جہاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ان کا استقبال کیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ اپنے دورے کے دوران چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی ملاقات کریں گے، جس میں سرحدی تعاون، سکیورٹی صورتحال اور علاقائی استحکام سمیت اہم امور زیر غور آئیں گے۔
منگل کو ایرانی وزیر داخلہ کے اعزاز میں اسلام آباد پولیس کی جانب سے خصوصی پریڈ کا انعقاد کیا گیا، جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ بعدازاں انہیں پاکستان مونومنٹ لے جایا گیا جہاں فیڈرل کانسٹیبلری کے دستے نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔
اسکندر مومنی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ ماہ اسلام آباد میں طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) کو بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کو یقینی بنانا تھا، تاہم بعد ازاں دوبارہ فوجی کارروائیوں کے باعث یہ معاہدہ مؤثر نہ رہ سکا۔
تازہ اطلاعات کے مطابق امریکی افواج نے پیر کی شب مسلسل دسویں روز ایران میں حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے منگل کو خلیجی خطے میں امریکی ریڈار اور فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کو “ختم” قرار دینے کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی موجودہ صورتحال کو “مکمل جنگ” قرار دیتے ہوئے امریکہ پر اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
اس کے باوجود ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ثالث ممالک کے ذریعے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطے بدستور جاری ہیں، جن میں پاکستان بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
دوسری جانب جنگ بندی ختم ہونے کے بعد ایران نے دوبارہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر دی، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر اپنی پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں۔
ادھر یمن کے حوثی باغیوں نے بھی تنازع میں شامل ہوتے ہوئے سعودی عرب کے خلاف فوری سمندری پابندی کا اعلان کر دیا۔ حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے اس اقدام کو “آنکھ کے بدلے آنکھ” کی پالیسی قرار دیا۔
سعودی وزارت خارجہ نے حوثیوں کے اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے یمن کی عدن میں قائم بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور خطے میں بحری سلامتی کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو مسترد کر دیا۔
پاکستان نے ایک بار پھر تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافے سے گریز کرتے ہوئے مذاکرات اور سفارتی ذرائع کے ذریعے تنازع کا پرامن حل تلاش کریں۔



