کوئٹہ (ایم این این): پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے سوراب اور مستونگ اضلاع میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران کیے گئے کامیاب انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز میں 10 دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ دو خاتون خودکش بمباروں اور ان کے ایک سہولت کار کو گرفتار کر لیا ہے۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے بدھ کو جاری بیان کے مطابق سوراب میں سات جبکہ مستونگ میں تین دہشت گرد مارے گئے۔ مستونگ میں کارروائی کے دوران دو خاتون خودکش حملہ آوروں اور ان کے مبینہ سہولت کار کو بھی گرفتار کیا گیا، جس سے ایک ممکنہ دہشت گرد کارروائی ناکام بنا دی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائیاں بلوچستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کے سہولت کاروں اور محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے جاری انسداد دہشت گردی مہم کا حصہ ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ دو روز کے دوران انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز، ٹارگٹڈ کارروائیاں اور علاقے کی کلیئرنس آپریشنز کیے گئے، جن میں فِتنہ الہندستان اور فِتنہ الخوارج سے وابستہ دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق گرفتار کی گئی دونوں خاتون خودکش بمبار اور ان کا سہولت کار فِتنہ الہندستان سے وابستہ تھے۔
کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ بارودی مواد (IEDs) بھی برآمد کیا گیا۔
فوج کے مطابق متاثرہ علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں تاکہ وہاں موجود کسی بھی دہشت گرد یا اس کے سہولت کار کو گرفتار یا ہلاک کیا جا سکے۔
آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت منظور شدہ “عزمِ استحکام” پالیسی کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں پوری شدت سے جاری رکھیں گے۔
بلوچستان میں سکیورٹی خدشات برقرار
یہ تازہ کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں زیارت کے منگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن پر پولیس چوکی پر دہشت گرد حملے کے بعد سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ طور پر آپریشن شَعبان شروع کیا تھا۔ اس حملے میں دہشت گردوں نے 27 پولیس اہلکاروں کو اغوا کرنے کے بعد شہید کر دیا تھا۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مئی کے دوران بلوچستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا، جہاں 71 دہشت گرد حملے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ اپریل میں یہ تعداد 34 تھی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملک بھر میں مئی کے دوران ہونے والے 54 اغوا کے واقعات میں سے 52 صرف بلوچستان میں پیش آئے، جو دہشت گرد گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
9 جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف نے کوئٹہ میں قومی ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سول اور عسکری قیادت نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا مشترکہ فیصلہ کر لیا ہے۔
اس اجلاس میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔
وزیراعظم کا یہ بیان آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی پریس کانفرنس کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کوئٹہ، زیارت اور بیلہ میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے پیچھے بیرونی عناصر کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔



