ٹویوٹا بمقابلہ بی وائی ڈی ، صرف عمر کا نہیں، استعمال کا بھی فرق سمجھیں

جاپانی اور چینی موٹر وہیکل انڈسٹری کا موازنہ، جدید گاڑیوں کے استعمال میں احتیاط کیوں ضروری ہے؟

اسلام آباد: ایم این این

پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور بی وائی ڈی سمیت کئی بین الاقوامی کمپنیاں مقامی مارکیٹ میں اپنی موجودگی مضبوط کر رہی ہیں۔ تاہم آٹو ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال ان کے ڈیزائن اور مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔ ٹویوٹا نے 28 اگست 1937 کو گاڑیاں تیار کرنا شروع کیں، جبکہ بی وائی ڈی کا قیام فروری 1995 میں عمل میں آیا۔ دونوں کمپنیوں کے درمیان تقریباً 58 سال کا فرق صرف تاریخ کا نہیں بلکہ آٹوموبائل انجینئرنگ، مینوفیکچرنگ اور عملی تجربے کا بھی عکاس ہے۔

ماہرین کے مطابق بی وائی ڈی نے مختصر عرصے میں الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت میں غیر معمولی ترقی کی ہے اور جدید بیٹری ٹیکنالوجی کے باعث عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر الیکٹرک گاڑی کو روایتی پک اپ یا آف روڈ گاڑی کی طرح استعمال کیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بعض صارفین نئی الیکٹرک گاڑیوں کو بھی دشوار گزار راستوں، گہرے پانی، کچے ٹریکس اور سخت آف روڈ ماحول میں استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ ان میں سے اکثر گاڑیاں شہری سڑکوں اور روزمرہ ڈرائیونگ کے لیے تیار کی جاتی ہیں۔

آٹو انڈسٹری سے وابستہ افراد کے مطابق پاکستان میں ابھی جدید الیکٹرک گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس، الیکٹرانک سینسرز، ریڈار، کیمروں اور دیگر حساس پرزوں کی دستیابی محدود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی نقصان کی صورت میں مرمت پر بھاری اخراجات آ سکتے ہیں اور بعض اوقات ایک سینسر یا الیکٹرانک ماڈیول کی تبدیلی بھی لاکھوں روپے تک پہنچ سکتی ہے۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ نئی ٹیکنالوجی سے لیس گاڑیوں کو ان کی انجینئرنگ کے مطابق استعمال کیا جائے، بروقت مینٹیننس کروائی جائے اور غیر ضروری تجربات سے گریز کیا جائے تاکہ نہ صرف گاڑی کی کارکردگی برقرار رہے بلکہ صارف اضافی مالی نقصان سے بھی محفوظ رہ سکے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں