ٹرمپ کا چین اور روس کے ایران تنازع میں شامل نہ ہونے کا دعویٰ

واشنگٹن/تہران (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین اور روس اس وقت ایران سے جاری تنازع میں شامل نہیں ہیں، تاہم اگر دونوں ممالک نے ایران کی حمایت میں عملی کردار ادا کیا تو یہ ان کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگا۔

ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ حالیہ بیجنگ ملاقات کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ چین کسی بھی صورت ایران کو اسلحہ فراہم یا فروخت نہیں کرے گا، حتیٰ کہ چینی کمپنیاں بھی ایسا نہیں کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو ہتھیار فراہم کرنا نہ چین کے مفاد میں ہے اور نہ ہی روس کے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، تاہم ابھی کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا باقی ہے۔

ٹرمپ نے مزید خبردار کیا کہ اگر تجارتی جہازوں یا ان کے سامان کو نقصان پہنچا تو امریکا اپنے کنٹرول میں موجود ایران کے منجمد سرکاری اثاثوں سے اس نقصان کا ازالہ کرے گا۔

اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے منجمد اثاثے مستقبل کے ممکنہ دعووں کی ادائیگی کے لیے استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کرے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں اسے “اشتعال انگیز نظیر” قرار دیا۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پیر کو واشنگٹن روانہ ہوں گے جہاں وہ منگل کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔

نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران سے متعلق جنگی حکمتِ عملی پر دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ دورے کے دوران اسرائیلی وزیراعظم امریکی سینیٹر لنڈسی گراہم کی آخری رسومات میں بھی شرکت کریں گے، جنہیں ان کے دفتر نے اسرائیل کا قریبی دوست قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں