ایران کے کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

تہران/اسلام آباد (ایم این این)؛ ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے دوران کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ایرانی فوج نے کویت کے احمد الجابر ایئر بیس پر موجود سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، فوجی سازوسامان کے گوداموں اور لڑاکا طیاروں کے ہینگرز کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔

ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ متحدہ عرب امارات کے المنہاد ایئر بیس پر موجود امریکی فوجی اہلکاروں اور ریڈار نظام کے مقامات کو بھی میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

کویت نے ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ملکی سلامتی، استحکام اور شہریوں و رہائشیوں کی حفاظت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ کویتی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

کویتی فوج کے مطابق اس کے فضائی دفاعی نظام ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔ فوج نے ایک بیان میں کہا کہ فضائی دفاعی یونٹس مبینہ ایرانی جارحیت کا جواب دے رہے ہیں۔

دریں اثنا، متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اماراتی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ مفادات کے فروغ کے طریقوں پر بھی گفتگو کی۔

ایران کی وزارت صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ 30 اگست سے 2 ستمبر کے دوران امریکی حملوں میں کم از کم 18 افراد جاں بحق اور 142 زخمی ہوئے۔ ایرانی حکام کے مطابق زخمیوں میں 44 بچے شامل ہیں، جبکہ جاں بحق ہونے والوں میں ایک بچہ اور دو خواتین بھی شامل ہیں۔

ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی ایران میں ایک شادی کی تقریب کے دوران رہائشی مکان پر ہونے والے مبینہ امریکی حملے کی مذمت کی جائے۔ ایران کے مطابق اس حملے میں چار سالہ بچے سمیت پانچ شہری جاں بحق اور 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور ناظم الامور غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر کو خط لکھ کر یہ مطالبہ کیا۔ یہ اپیل جنوبی ایرانی شہروں پر امریکی حملوں کی ایک نئی لہر کے بعد کی گئی۔

ایران نے مزید دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے جنوب میں بعض بحری راستوں پر اضافی بحری بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں۔ ایرانی فوجی ترجمان ابراہیم ذوالفقاری کے مطابق یہ کارروائی رات بھر جاری رہنے والے آپریشن کا حصہ تھی۔

دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے ایسنا نے دعویٰ کیا ہے کہ کوہستک میں شادی کی تقریب پر گرنے والا بم امریکی ساختہ تھا۔ رپورٹ کے مطابق ایک سابق امریکی فوجی ماہر نے بم کے باقیات کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ اس کی خصوصیات امریکی ساختہ جے ایس او ڈبلیو (JSOW) بم سے مشابہ ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران پر مزید حملوں کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات ایران پر شدید حملے کیے گئے اور ضرورت پڑنے پر امریکا دوبارہ کارروائی کر سکتا ہے۔

ادھر قطر نے کویت پر ایران کے نئے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں کویت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قانون کی پامالی قرار دیا۔

قطری وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ حملوں کا سلسلہ جاری رہنے سے علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو سکتی ہیں اور امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی اقدامات متاثر ہو سکتے ہیں۔

قطر نے کویت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے کویت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔ قطر نے تمام فریقوں سے فوجی کارروائیاں بند کرنے، تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات و سفارتی ذرائع کی طرف واپس آنے کا مطالبہ بھی کیا۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں