اسلام آباد (ایم این این)؛ پاکستان میں نیدرلینڈز کی بادشاہت کے سفارت خانے نے نیدرلینڈز کے سفیر کی رہائش گاہ پر اعلیٰ سطحی اقتصادی گول میز کانفرنس اور نیٹ ورکنگ ریسیپشن کا انعقاد کیا، جس میں ڈچ کاروباری شخصیات، پاکستانی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام، حکومتی نمائندوں اور سفارتی برادری کے ارکان نے شرکت کی۔
تقریب کا مقصد پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان اقتصادی مکالمے کو فروغ دینا، تجارتی تعاون بڑھانا اور طویل المدتی کاروباری و سرمایہ کاری تعلقات کو مزید مضبوط بنانا تھا۔
تقریب میں پاکستان میں ڈچ کاروباری اداروں کی مضبوط موجودگی کو نمایاں کیا گیا۔ پاکستان میں 50 سے زائد ڈچ کمپنیاں زراعت، خوراک و مشروبات اور صنعتی ذخیرہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں سرگرم ہیں۔
نیدرلینڈز یورپی یونین میں پاکستان کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ غذائی تحفظ کے شعبے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 1.9 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جسے یورپی یونین کے جی ایس پی پلس نظام سے بھی سہارا مل رہا ہے۔
یورپ کی سب سے بڑی بندرگاہ روٹرڈیم بھی نیدرلینڈز کو پاکستانی برآمدات کے لیے ایک اہم مرکز بناتی ہے، جہاں سے پاکستانی مصنوعات یورپی یونین کے دیگر ممالک تک پہنچتی ہیں۔
پاکستان میں نیدرلینڈز کے سفیر رابرٹ یان سیگرٹ نے کہا کہ ڈچ کاروبار پاکستانی عوام کی روزمرہ زندگی سے اس سے کہیں زیادہ قریب ہے جتنا عام طور پر محسوس کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے پاکستانیوں کا دن ایک کپ چائے سے شروع ہوتا ہے، جس میں ممکنہ طور پر لپٹن چائے اور اولپرز دودھ استعمال کیا جاتا ہے یا پھر اسپار سپر مارکیٹ سے خریداری کی جاتی ہے۔ ان روزمرہ استعمال کی اشیا کے پس منظر میں ڈچ برانڈز، مہارت اور کاروباری شراکت داری موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈچ کاروباری سرگرمیاں صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ کمیونٹی کی ترقی اور سماجی بہبود میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
فریز لینڈ کیمپینا اپنے چھوٹے پیمانے کے دودھ جمع کرنے کے پروگرام کے ذریعے دیہی خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ محفوظ اور غذائیت سے بھرپور دودھ کی فراہمی کے ذریعے عوامی صحت میں بھی کردار ادا کر رہی ہے۔
اسی طرح اکزو نوبیل اپنے ڈیولکس پینٹس کے ذریعے کمیونٹی ترقیاتی منصوبوں میں حصہ لے رہی ہے، جن میں لاہور کے علاقے ڈھیر پنڈی کی تزئین و آرائش اور رنگ و روغن کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
تقریب میں اینگرو ووپاک اور برکت فریزیئن ایگرو جیسے کامیاب مشترکہ کاروباری منصوبوں کو بھی نمایاں کیا گیا، جو اس بات کی مثال ہیں کہ ڈچ مہارت اور پاکستانی کاروباری صلاحیت مل کر طویل المدتی معاشی فوائد پیدا کر سکتی ہیں۔
نیٹ ورکنگ ریسیپشن میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر آبی وسائل میاں محمد معین وٹو اور وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے بھی شرکت کی۔
تقریب میں سفارتی، کاروباری اور پالیسی سازی سے وابستہ اہم شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس سے پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی اور تجارتی تعلقات کی اہمیت واضح ہوئی۔



