کوئٹہ/راولپنڈی (ایم این این)؛ چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ہفتے کے روز کوئٹہ گیریژن کا دورہ کیا اور کہا کہ بلوچستان کے عوام کا امن، خوشحالی اور فلاح و بہبود ریاست کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
یہ دورہ صوبے میں دہشت گردی کی حالیہ سرگرمیوں میں اضافے کے تناظر میں کیا گیا، جہاں پشین اور بھاگ میں دہشت گرد حملوں کے علاوہ گزشتہ ہفتے مستونگ، قلات اور سبی میں بڑے انسداد دہشت گردی آپریشن کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوئٹہ پہنچنے پر کور کمانڈر کوئٹہ نے ان کا استقبال کیا اور انہیں بلوچستان میں موجودہ سکیورٹی صورتحال، آپریشنل تیاریوں اور امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان کے عوام کا امن، ترقی اور خوشحالی ریاستی کوششوں کا بنیادی محور ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک پرامن اور محفوظ ماحول صوبے میں ترقیاتی منصوبوں، اقتصادی سرگرمیوں اور عوام کے بہتر مستقبل کے لیے ضروری ہے۔
بریفنگ میں ادارہ جاتی رابطوں اور بلوچستان میں جاری سماجی و اقتصادی ترقی کے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
چیف آف ڈیفنس فورسز نے صوبے میں تعینات فوجی دستوں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، آپریشنل تیاری اور فرائض سے وابستگی کو سراہا۔
انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر ریاستی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ امن کو مستحکم اور اقتصادی ترقی کے لیے سازگار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے جوانوں کی ثابت قدمی اور فرض شناسی کو بھی سراہا۔
بلوچستان میں انسداد دہشت گردی آپریشن جاری
اس سے ایک روز قبل آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے 72 گھنٹوں کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تیز رفتار انسداد دہشت گردی آپریشنز کے دوران 48 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔
یہ کارروائیاں مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی کے اضلاع میں کی گئیں، جن میں ریاست کی جانب سے بھارتی پراکسیز، فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج قرار دیے جانے والے دہشت گرد عناصر کو نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے فتنہ الخوارج کی اصطلاح استعمال کرتا ہے، جبکہ بلوچستان میں سرگرم بعض دہشت گرد گروہوں کو فتنہ الہندوستان قرار دیا جاتا ہے۔
دوسری جانب بھاگ میں ایک مربوط دہشت گرد حملے کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ناکام بنا دیا، جہاں تقریباً 40 دہشت گردوں نے پولیس اسٹیشن، بینک اور اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر کو نشانہ بنایا۔
بلوچستان حکومت کے مطابق حملہ آوروں نے بھاری ہتھیاروں، راکٹ لانچروں، مشین گنوں، سنائپر رائفلز اور دستی بموں کا استعمال کیا۔
حملے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے، تاہم دہشت گرد پولیس اسٹیشن پر قبضہ کرنے یا وہاں سے اسلحہ لے جانے میں ناکام رہے۔
ایک اور واقعے میں 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں نے ضلع پشین میں این-50 قومی شاہراہ پر زیارت کراس کے مقام پر قائم کسٹمز ہاؤس پر مربوط حملہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
فائرنگ کے تبادلے میں دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت چھ افراد شہید ہوئے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے ماہانہ جائزے کے مطابق بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کی تعداد جولائی میں 83 سے بڑھ کر اگست میں 89 ہو گئی، جس کے باعث صوبہ ملک میں سب سے زیادہ سنگین سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنے والا خطہ رہا۔



