مظفرآباد (ایم این این): پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعہ کو آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات کی انتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے کشمیری عوام کی آواز اسلام آباد اور عالمی سطح پر بننے، آئینی اصلاحات لانے اور خطے کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دینے کا وعدہ کیا۔
مظفرآباد میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ آزاد کشمیر اس وقت انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہے، جو نہ صرف حکومتِ آزاد کشمیر بلکہ ریاستِ پاکستان اور تمام سیاسی جماعتوں کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو وفاقی دارالحکومت اور بین الاقوامی فورمز پر مؤثر انداز میں اٹھائے، مگر بدقسمتی سے یہ کردار ادا نہیں کیا جا رہا۔
انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں کو آزاد کشمیر کے عوام اور وفاق کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا چاہیے، لیکن آج یہ رابطہ کمزور پڑ چکا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان بھی اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر آزاد کشمیر کے عوام انہیں مینڈیٹ دیتے ہیں تو وہ اسلام آباد اور عالمی برادری کے سامنے کشمیریوں کے حقوق اور مسائل کی بھرپور نمائندگی کریں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ہر مسئلہ سیاسی مذاکرات اور پرامن طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے، اسی مقصد کے لیے انہوں نے ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن (سچائی اور مفاہمتی کمیشن) کے قیام کی تجویز دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور احتجاج کرنے والے اس تجویز پر متفق ہو جائیں تو آزاد کشمیر کے موجودہ بحران کا پرامن حل نکالا جا سکتا ہے۔
بلاول بھٹو نے مظاہرین سے اپیل کی کہ کمیشن کے قیام تک احتجاج معطل کریں جبکہ حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ مزید سخت اقدامات سے گریز کرے۔ تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اب تک نہ حکومت اور نہ ہی مظاہرین نے ان کی تجویز پر کوئی جواب دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، لیکن ایسے احتجاج جن سے خوراک، ایندھن اور ادویات کی ترسیل متاثر ہو، ان کا نقصان حکومت نہیں بلکہ عام عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ کارروائی صرف ان افراد کے خلاف کی جائے جو دہشت گردی یا جرائم میں ملوث ہوں، نہ کہ پورے کشمیر کے عوام کو مشکلات میں ڈالا جائے۔
بلاول بھٹو نے حکومت اور مظاہرین دونوں سے اپیل کی کہ عام کشمیری عوام کے لیے راستہ نکالا جائے تاکہ انہیں روزمرہ زندگی میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی میں کردار ادا کر سکتا ہے تو پھر آزاد کشمیر کے مسائل بھی حل کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے 27 جولائی کو ہونے والے انتخابات کو آزاد کشمیر کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے منشور میں خود اختیاری، خود حکمرانی اور روزگار کا حق شامل ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کے نہایت اہم خطے ہیں، جنہیں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف کو متاثر کیے بغیر زیادہ سے زیادہ آئینی اور سیاسی حقوق دیے جائیں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ انتخابات کے بعد آئینی کنونشنز منعقد کیے جائیں گے تاکہ عوام خود اپنی تجاویز پیش کریں اور اصلاحات کے بارے میں فیصلہ کریں۔
انہوں نے کہا، “کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کریں گے، کوئی دوسرا ملک نہیں۔”
بلاول بھٹو نے کشمیری عوام کو قانون ساز اداروں میں نمائندگی دینے، چاہے مبصر کی حیثیت سے ہو یا عبوری آئینی بندوبست کے تحت، کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے وزارتِ امورِ کشمیر و گلگت بلتستان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان خطوں کو مکمل بااختیار بنایا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 27 جولائی کو کرانے کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے قانون ساز اسمبلی کی 45 میں سے 35 نشستوں پر اپنے امیدوار نامزد کیے ہیں اور دو نشستیں اپنی اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے لیے مختص کی ہیں۔



