شدید مون سون بارشوں سے لاہور زیرِ آب، گلگت بلتستان میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے تباہی

گلگت/لاہور/اسلام آباد (ایم این این): شدید مون سون بارشوں نے پنجاب اور گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ لاہور میں شہری سیلاب کی صورتحال پیدا ہوگئی جبکہ گلگت بلتستان میں اچانک آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہیں، پل، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث ہزاروں مقامی افراد اور سیاح مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران لاہور میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں شہر کے 130 سے زائد مقامات پر پانی جمع ہوگیا۔ پی ڈی ایم اے نے مون سون کے دوسرے اسپیل کے دوران شہری سیلاب کے مزید خطرے سے بھی خبردار کیا ہے۔

شدید بارش کے باعث ڈی ایچ اے، مال روڈ، ہربنس پورہ، کوپر روڈ، لکشمی چوک، چوبرجی اور دیگر علاقوں کی سڑکیں زیر آب آگئیں جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو ٹریفک کے لیے بند کرکے گاڑیوں کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔

کم نشیبی علاقوں میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا اور شہریوں نے شکایت کی کہ نکاسی آب میں تاخیر کے باعث انہیں اپنے گھروں سے پانی خود نکالنا پڑا۔ متعدد گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں جبکہ کئی شہریوں نے خراب ہونے کے خدشے کے پیش نظر اہم شاہراہوں پر سفر سے گریز کیا۔

شدید بارشوں کے باعث کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ، بھیکے والا موڑ اور خیابانِ فردوسی پر بڑے سنک ہولز بھی بن گئے، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ مقامات کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب بھر میں جاری مون سون سیزن کے دوران بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں 21 افراد جاں بحق جبکہ 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد عمارتیں گرنے، دو آسمانی بجلی گرنے، تین کرنٹ لگنے اور ایک شخص ڈوبنے سے جان کی بازی ہارا، جبکہ 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔

پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عمر عباس میلہ نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے شہریوں کو کمزور عمارتوں، نشیبی علاقوں اور بجلی کی تنصیبات سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔

واسا لاہور کے مطابق شہر بھر میں ہنگامی نکاسی آب کا عمل جاری ہے۔ منیجنگ ڈائریکر غفران احمد نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے بتایا کہ تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں، اضافی مشینری تعینات کر دی گئی ہے اور 21 سے زائد مون سون ایمرجنسی ریلیف کیمپ قائم کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 24 گھنٹے فعال کنٹرول روم شہر بھر میں نصب 200 سے زائد لائیو کیمروں کے ذریعے صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے۔

ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) علی اعجاز نے بھی مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور کہا کہ بیشتر اہم شاہراہوں سے پانی نکال دیا گیا ہے جبکہ باقی علاقوں میں کام جاری ہے۔

دریں اثنا چیف ٹریفک آفیسر سید عبد الرحیم شیرازی نے سنک ہولز والے مقامات کو محفوظ بنانے، متبادل راستے فراہم کرنے اور انڈر پاسز کے باہر اضافی ٹریفک اہلکار تعینات کرنے کی ہدایت جاری کی۔

گلگت بلتستان میں شدید تباہی

دوسری جانب گلگت بلتستان میں مسلسل بارشوں سے آنے والے اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے مواصلاتی نظام کو شدید متاثر کر دیا۔

محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے 26 جولائی تک مزید بارشوں اور گلیشیائی جھیل پھٹنے (GLOF) کے خطرے کی وارننگ جاری کرتے ہوئے عوام اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔

سیلابی ریلوں نے قراقرم ہائی وے، بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر ہائی وے، غذر-شندور روڈ اور استور ویلی روڈ سمیت متعدد اہم شاہراہیں بند کر دیں، جبکہ ہزاروں افراد مختلف علاقوں میں محصور ہو گئے۔

جی بی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم ہائی وے داسو سے ہنزہ اور نگر تک متعدد مقامات پر بند ہے۔

اسکردو کی روندو تحصیل میں تورمک نالہ کے سیلاب نے ملان پل سمیت تین اہم پل بہا دیے، جبکہ خرمانگ، گانچھے، شگر، ہراموش، غذر اور دیامر میں سڑکیں، زرعی زمینیں، آبپاشی نہریں، بجلی گھر، معلق پل اور دیگر بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا۔

استور، تانگیر، تھور اور دیامر کے کئی علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہوگیا جبکہ متعدد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ درجنوں خاندان بے گھر ہو گئے جبکہ گلگت کے جوتل علاقے میں دریائے ہنزہ نگر کے بڑھتے پانی سے کئی گھروں کو خطرہ لاحق ہے۔

امدادی سرگرمیاں جاری

جی بی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، این ڈی ایم اے اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ خیمے، خوراک، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے تمام متعلقہ اداروں کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے، تباہ شدہ شاہراہوں اور پلوں کی فوری بحالی، اور متاثرین کو خوراک، ادویات، خیموں اور صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

اسلام آباد میں این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹر کے دورے کے دوران وزیراعلیٰ نے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک سے ملاقات کی، جہاں گلیشیئرز کی جدید سائنسی نگرانی، بروقت وارننگ سسٹم اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گلگت بلتستان میں گلیشیائی جھیل پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لہٰذا وفاقی اور صوبائی اداروں کو مربوط حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے انسانی جانوں، بنیادی ڈھانچے اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو قومی ترجیح بنانا چاہیے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں