صنعا ایئرپورٹ پر حملے کے بعد حوثیوں کا سعودی عرب پر بیلسٹک میزائل حملہ، جنگ بندی ٹوٹنے کا خدشہ بڑھ گیا

دبئی/اسلام آباد (ایم این این): یمن کے حوثی باغیوں نے صنعا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کے چند گھنٹوں بعد پیر کو سعودی عرب کے جنوبی علاقے کی جانب ایک بیلسٹک میزائل داغ دیا، جسے سعودی فضائی دفاع نے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ حالیہ برسوں میں دونوں فریقوں کے درمیان سب سے بڑا عسکری تصادم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے 2022 کی نازک جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا کہ سعودی فضائی دفاع نے جنوبی علاقے کی جانب داغے گئے حوثیوں کے بیلسٹک میزائل کو کامیابی سے ناکام بنا دیا۔

اس سے قبل حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی عرب پر صنعا ایئرپورٹ پر حملہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاض نے کشیدگی میں کمی کے مرحلے کو ختم کر دیا ہے اور اس جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے صنعا ایئرپورٹ کی رن وے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی کا مقصد ایک ایرانی طیارے کو بغیر اجازت یمنی فضائی حدود میں اترنے سے روکنا تھا۔ حکام کے مطابق تہران میں ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کرنے والا حوثی وفد قومی ایئرلائن یمنیہ کی پرواز استعمال کرنے سے انکار کر کے ایرانی طیارے کے ذریعے واپس آنا چاہتا تھا۔

یمن کی وزارت دفاع نے کہا کہ ایرانی طیارے نے یمنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، جس کے باعث رن وے کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے واضح کیا کہ انہوں نے تصادم کا دائرہ وسیع نہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

ایران نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ کارروائی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

سلامتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو اپریل 2022 کی جنگ بندی عملی طور پر ختم ہو سکتی ہے اور یمن دوبارہ مکمل جنگ کی طرف جا سکتا ہے۔ امریکی ادارے “باشا رپورٹ” کے سربراہ محمد الباشا کے مطابق آئندہ چند روز میں دونوں فریقوں کے اقدامات یہ طے کریں گے کہ آیا تنازع دوبارہ بڑے پیمانے پر عسکری تصادم میں تبدیل ہوگا یا نہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خلیج اور آبنائے ہرمز میں سکیورٹی خدشات پہلے ہی پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کیے ہوئے ہیں۔

حوثیوں نے حالیہ دنوں میں ایران اور صنعا کے درمیان براہ راست پروازوں کا انتظام کر کے سعودی اتحاد کے اس نظام کو بھی چیلنج کیا، جس کے تحت گزشتہ ایک دہائی سے یمنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے تمام طیاروں کے لیے سعودی اتحاد کی پیشگی منظوری ضروری رہی ہے۔

دوسری جانب یمنی حکومت نے حوثیوں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (ICRC) کے طیارے کو صنعا ایئرپورٹ سے روانہ ہونے سے روکا اور پائلٹ و معاون پائلٹ کو عارضی طور پر روک لیا، تاہم آئی سی آر سی نے بعد میں تصدیق کی کہ اس کا تمام عملہ اور فلائٹ کریو محفوظ ہے۔

2014 سے جاری یمن کی خانہ جنگی میں حوثی دارالحکومت صنعاء اور شمالی یمن کے بیشتر علاقوں پر قابض ہیں، جبکہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت جنوبی علاقوں کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھتی ہے۔ اس طویل تنازع میں لاکھوں افراد متاثر ہو چکے ہیں اور یمن دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں