لاہور (ایم این این): لاہور ہائی کورٹ نے خواتین کے مالی حقوق کے تحفظ سے متعلق ایک اہم اور نظیر ساز فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر شادی شوہر کے ظلم، بدسلوکی یا دیگر قانونی کوتاہیوں کی بنیاد پر ختم ہو تو بیوی کا حق مہر (حقِ مہر) مکمل طور پر محفوظ رہے گا، خواہ فیملی کورٹ اس فیصلے کو خُلع کا نام ہی کیوں نہ دے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے شوہر کی جانب سے دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے ٹوبہ ٹیک سنگھ کی فیملی کورٹ کا وہ فیصلہ برقرار رکھا جس میں سابقہ بیوی کو مؤخر شدہ حق مہر کا 50 فیصد ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ عدالت نے آئندہ کے لیے اہم قانونی رہنما اصول بھی جاری کیے تاکہ خواتین کو حق مہر سے محروم کرنے کا خودکار رجحان ختم کیا جا سکے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق فریقین کی شادی 18 مارچ 2022 کو ہوئی تھی اور حق مہر کی مد میں ایک لاکھ روپے مؤخر مقرر کیے گئے تھے۔
چند ہی عرصے بعد خاتون نے فیملی کورٹ میں نکاح فسخ کرنے کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ شوہر نے حق مہر کا مطالبہ کرنے پر انہیں جسمانی اور زبانی تشدد کا نشانہ بنایا۔
درخواست میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ شوہر بے روزگار تھا، چوری اور منشیات کے استعمال میں ملوث تھا اور انہیں زبردستی گھر سے نکال دیا گیا۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ کی فیملی کورٹ نے شادی فسخ کرتے ہوئے فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کی دفعہ 10(4) کے تحت خاتون کو مؤخر شدہ حق مہر کا نصف حصہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
شوہر نے لاہور ہائی کورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے 2022 میں فیملی کورٹس ایکٹ کی دفعات 10(5) اور 10(6) کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد فیملی عدالتیں خلع یا نکاح کے خاتمے کی صورت میں حق مہر دینے کی مجاز نہیں رہیں۔
تاہم جسٹس محسن اختر کیانی نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ قانون میں صرف ناپسندیدگی کی بنیاد پر حاصل کیے گئے خلع اور شوہر کے ظلم و زیادتی یا بدسلوکی کی بنیاد پر نکاح فسخ ہونے کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ مسلم عائلی قوانین کے تحت اگر بیوی جسمانی، ذہنی، زبانی یا معاشی تشدد جیسے قانونی اسباب ثابت کر دے تو اس کا حق مہر، خواہ فوری ہو یا مؤخر، ادا شدہ ہو یا واجب الادا، کسی بھی صورت متاثر نہیں ہو سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ظلم و زیادتی ایک سول معاملہ ہے جسے امکانات کے توازن کی بنیاد پر دیکھا جائے گا اور بیوی کی قابل اعتماد گواہی پر فیصلہ دینے کے لیے لازماً میڈیکل رپورٹ یا پولیس رپورٹ کی ضرورت نہیں۔
عدالت نے مزید واضح کیا کہ فیملی کورٹس شوہر کے ظلم پر مبنی دعویٰ کو بیوی کی واضح رضامندی کے بغیر محض خلع میں تبدیل نہیں کر سکتیں۔
جسٹس کیانی نے قرار دیا کہ مؤخر شدہ غیر ادا شدہ حق مہر شوہر پر واجب الادا قرض ہے جسے صرف خلع کا نام دے کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حق مہر نکاح کے معاہدے سے پیدا ہونے والا ایک قانونی اور مالی حق ہے، نہ یہ شوہر کے لیے سزا ہے اور نہ ہی ایسا فائدہ جسے عدالت اپنی صوابدید پر ختم کر سکے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ نکاح ختم کرنے کا حق اور حق مہر کا حق دو الگ قانونی حقوق ہیں، جن کے بارے میں عدالت کو الگ الگ شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہوگا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے نشاندہی کی کہ وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے متعلقہ دفعات کالعدم قرار دیے جانے کے بعد نئی قانون سازی نہ ہونے سے ماتحت عدالتوں میں ابہام پیدا ہوا، جس کے باعث کئی فیملی کورٹس خواتین کو بلاجواز حق مہر سے محروم کر رہی ہیں۔
عدالت نے سفارش کی کہ تحلیلِ نکاح کے مقدمات میں حق مہر کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کی جائے، جس میں فیملی عدالتوں پر لازم ہو کہ وہ پہلے نکاح ختم ہونے کی اصل وجہ کا تعین کریں اور اگر شوہر کی بدسلوکی یا دیگر قانونی اسباب ثابت ہوں تو حق مہر مکمل طور پر محفوظ رکھا جائے۔
لاہور ہائی کورٹ نے اپنے رجسٹرار کو ہدایت کی ہے کہ فیصلے کی نقول پنجاب لا اینڈ پارلیمانی افیئرز ڈیپارٹمنٹ اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کو بھجوائی جائیں تاکہ خواتین کے حق مہر کے تحفظ کے لیے واضح اور جامع قانون سازی کی جا سکے۔



