مال کی چمک یا معاملہ کچھ اور؟ پاکستان انجینئرنگ کونسل میں مبینہ جعلسازی کا انکشاف

اسلام آباد: ایم این این

پاکستان انجینئرنگ کونسل میں کمپنیوں کی رجسٹریشن اور اپ گریڈیشن کے عمل کے دوران مبینہ جعلسازی کا معاملہ سامنے آگیا، جس نے کونسل کے نظامِ نگرانی اور متعلقہ حکام کی کارکردگی پر کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان انجینئرنگ کونسل کی انرولمنٹ کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں مختلف کمپنیوں کی رجسٹریشن اور اپ گریڈیشن کے امور کا جائزہ لیا گیا، تاہم اجلاس کے دوران ایک کمپنی کی جانب سے مبینہ جعلی ورک آرڈر اور دیگر دستاویزات پیش کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اے آر اینڈ برادرز سی ون 1834 کنسٹرکشن کمپنی کی جانب سے اپ گریڈیشن کے لیے ورک آرڈر سمیت مختلف دستاویزات فراہم کی گئیں، جن کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مزید اہم بات یہ ہے کہ اے آر اینڈ برادرز کا نام خیبرپختونخوا کی ای ٹینڈرنگ لسٹ میں بھی شامل نہیں، جس کے باعث کمپنی کی جانب سے پیش کیے گئے ورک آرڈر کی تصدیق اور اس کی بنیاد پر اپ گریڈیشن کی منظوری پر سوالات مزید بڑھ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مبینہ جعلی ورک آرڈر کی بنیاد پر کمپنی کی اپ گریڈیشن کی منظوری بھی دے دی گئی، جبکہ مبینہ جعلسازی کے معاملے کے باوجود کمپنی کو سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی تیاریاں بھی شروع کردی گئی ہیں۔

مبینہ طور پر جعلی دستاویزات کی بنیاد پر کمپنی کو اپ گریڈیشن کا فائدہ پہنچائے جانے کے معاملے نے پاکستان انجینئرنگ کونسل کے اندرونی نگرانی اور دستاویزات کی تصدیق کے نظام پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

اہم سوال یہ ہے کہ کمپنی کی جانب سے پیش کیے گئے ورک آرڈر اور دیگر دستاویزات کی تصدیق کس سطح پر کی گئی؟ اگر دستاویزات میں جعلسازی کے شواہد موجود تھے تو کمپنی کی اپ گریڈیشن کی منظوری کیسے دی گئی؟

ذرائع کے مطابق معاملے میں پاکستان انجینئرنگ کونسل کے بعض حکام اور عملے کی مبینہ ملی بھگت کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، تاہم ان الزامات کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونا ضروری ہے۔

دوسری جانب چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل انجینئر وسیم نذیر کی معاملے سے لاعلمی پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ کونسل کے اہم انتظامی اور رجسٹریشن معاملات میں اعلیٰ حکام کو کس حد تک آگاہ رکھا جاتا ہے۔

مبینہ جعلسازی کے معاملے نے یہ سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ کیا انرولمنٹ کمیٹی کے ارکان کو کمپنی کی جانب سے پیش کیے گئے مبینہ جعلی ورک آرڈر اور دستاویزات کے بارے میں علم تھا؟

ماہرین کے مطابق اگر جعلی دستاویزات کی بنیاد پر کسی کمپنی کی اپ گریڈیشن کی تصدیق ہوجائے تو اس کے اثرات صرف انجینئرنگ کونسل تک محدود نہیں رہتے بلکہ سرکاری اور نجی منصوبوں کے ٹھیکوں کے نظام کی شفافیت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

مال کی چمک یا معاملہ کچھ اور؟ پاکستان انجینئرنگ کونسل میں مبینہ جعلسازی کے اس معاملے نے شفافیت، نگرانی اور ذمہ داری کے حوالے سے کئی اہم سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

معاملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہی یہ تعین کرسکتی ہیں کہ مبینہ جعلی دستاویزات کونسل تک کیسے پہنچیں، ان کی تصدیق کس نے کی اور اپ گریڈیشن کی منظوری کس بنیاد پر دی گئی۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں