نئے انتظامی یونٹس صرف عوامی رضامندی سے بنیں گے

لاہور (ایم این این)؛

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبے صرف عوامی حمایت اور رضامندی سے قائم کیے جا سکتے ہیں، کسی فرد، سیاسی جماعت یا حکومت کی خواہش پر ایسا فیصلہ مسلط نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور میں نیشنل پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نظام کو “ری سیٹ” کرنے کا مطلب اسے توڑنا نہیں بلکہ اس کی خامیوں کو دور کرکے اسے زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ کسی بھی بڑی انتظامی اصلاح کے لیے سیاسی اتفاق رائے، آئینی طریقہ کار اور جمہوری اصولوں پر عمل ضروری ہے۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ، ماہرین اور متعلقہ حلقوں کو تفصیلی بحث کے بعد ایک جامع منصوبہ عوام کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کی تعداد، جغرافیائی حدود، فوائد، طریقہ کار اور مالی اثرات کا مکمل جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔

وزیر داخلہ نے وضاحت کی کہ گزشتہ ماہ ان کے بیانات کسی مخصوص سیاسی جماعت کے خلاف نہیں تھے بلکہ ان کا مقصد پاکستان کے موجودہ نظام حکمرانی میں اصلاحات کی ضرورت پر توجہ دلانا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کا انتظامی نظام اپنی مؤثریت کھو رہا ہے اور عام شہریوں تک ریاستی سہولیات اور فوائد مطلوبہ انداز میں نہیں پہنچ رہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ آج بھی ہر دس میں سے چار بچے مطلوبہ تعلیم سے محروم ہیں، صرف 55 فیصد آبادی کو صاف پینے کا پانی میسر ہے جبکہ عدالتوں میں تقریباً 20 لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ انتظامی اصلاحات کا مقصد انہی بنیادی مسائل کو حل کرنا، حکمرانی بہتر بنانا اور عوام کو بہتر خدمات فراہم کرنا ہے۔

وزیر داخلہ نے خود کو اسلام آباد کو صوبہ بنانے کا مضبوط حامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کو بھی نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں اپنا جائز حصہ ملنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو صوبے کا درجہ دینے سے شہریوں کو زیادہ حقوق اور وسائل مل سکتے ہیں، جبکہ این ایف سی میں آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کے موجودہ نظام کا بھی ازسرنو جائزہ ضروری ہے۔

محسن نقوی نے نیو یارک سٹی کے میئر زہران ممدانی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مقامی سطح کی قیادت اپنے شہریوں اور ان کے مسائل کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکتی ہے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے کسی کی نسلی، ثقافتی یا علاقائی شناخت متاثر نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا، “سندھی سندھی رہے گا اور پنجابی پنجابی رہے گا،” اور واضح کیا کہ مجوزہ اصلاحات کا مقصد شناخت تبدیل کرنا نہیں بلکہ نظام حکمرانی کو بہتر بنانا ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ اس معاملے پر بحث کو نسلی، قبائلی یا علاقائی تقسیم سے بالاتر رکھنا چاہیے اور اس کا مقصد ایک مؤثر نظام، بااختیار عوام اور حکومت کو شہریوں کے قریب لانا ہونا چاہیے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر داخلہ نے کہا کہ عوام کی مرضی کے خلاف کوئی انتظامی تبدیلی نہیں کی جائے گی اور تمام سیاسی جماعتوں کو اس معاملے پر مشاورت کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اگر عوام نئے انتظامی یونٹس چاہتے ہیں تو ان کے قیام کا راستہ نکالا جائے گا۔

یاد رہے کہ جولائی میں محسن نقوی نے نظام حکمرانی میں اصلاحات، نئے صوبوں کے قیام اور انتظامی تبدیلیوں کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان قومی مکالمے کی تجویز دی تھی، جس کے بعد ملک بھر میں اس موضوع پر مختلف سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث شروع ہو گئی تھی۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں