وفاق کے سرکاری ہسپتالوں میں برے حالات، سیکڑوں پوسٹیں خالی ہونے کا انکشاف

وفاق کے زیرِ انتظام اسپتالوں میں کم عملے کے ساتھ علاج کی سہولت فراہم کیے جانے پر سوالات اٹھنے لگے۔

اسلام آباد: ایم این این

وفاقی دارالحکومت سمیت مختلف سرکاری طبی اداروں میں منظور شدہ آسامیوں کے باوجود بڑی تعداد میں پوسٹیں خالی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز اسلام آباد میں 2453 منظور شدہ آسامیوں میں سے 1490 پُر جبکہ 963 آسامیاں خالی ہیں۔

پمز میں ڈاکٹرز کی 852 منظور شدہ آسامیوں میں سے 467 پُر اور 385 خالی ہیں، جبکہ نرسز کی 1093 آسامیوں میں 730 پُر اور 363 خالی ہیں۔

اسی طرح پمز میں پیرا میڈیکل اسٹاف کی 508 منظور شدہ آسامیوں میں سے 293 پُر جبکہ 215 آسامیاں خالی ہیں۔

وفاقی حکومت پولی کلینک اسلام آباد میں 1132 منظور شدہ آسامیوں میں سے 893 پُر اور 239 خالی ہیں۔

پولی کلینک میں ڈاکٹرز کی 453 آسامیوں میں سے 363 پُر جبکہ 90 خالی، نرسز کی 288 میں سے 243 پُر اور 45 خالی ہیں، جبکہ پیرا میڈیکل اسٹاف کی 391 آسامیوں میں سے 287 پُر اور 104 خالی ہیں۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد میں بھی 161 منظور شدہ آسامیوں میں سے 132 پُر جبکہ 29 خالی ہیں۔

شاہدرہ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ لاہور میں 1216 منظور شدہ آسامیوں میں سے صرف 793 پُر اور 423 خالی ہیں۔

شاہدرہ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں ڈاکٹرز کی 178 آسامیوں میں سے صرف 47 پُر جبکہ 131 خالی ہیں، جبکہ پیرا میڈیکل اسٹاف کی 450 آسامیوں میں 287 پُر اور 163 خالی ہیں۔

وفاقی جنرل ہسپتال اسلام آباد میں 212 منظور شدہ آسامیوں میں سے 165 پُر اور 47 خالی ہیں۔

ضلعی محکمہ صحت اسلام آباد میں 393 منظور شدہ آسامیوں میں سے 239 پُر جبکہ 154 خالی ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پمز اسلام آباد میں تقریباً 39 فیصد منظور شدہ آسامیاں خالی ہیں، جبکہ ضلعی محکمہ صحت اسلام آباد میں بھی تقریباً 39 فیصد اور شاہدرہ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ لاہور میں تقریباً 35 فیصد منظور شدہ آسامیاں خالی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جب یہ آسامیاں پہلے ہی منظور شدہ ہیں تو انہیں پُر کرنے میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے؟

کیا سرکاری ہسپتالوں میں اسٹاف کی کمی مریضوں کو دستیاب طبی سہولیات کے معیار کو متاثر نہیں کر رہی؟

کاغذوں میں سیکڑوں منظور شدہ پوسٹیں، لیکن عملی طور پر بڑی تعداد خالی، وفاق کے سرکاری شعبہ صحت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گئی ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں