پاکستان کی زرمبادلہ ذخائر بڑھانے کے لیے 10 ارب ڈالر کے ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ کی کوشش

عالمی مالیاتی منڈیوں میں نئی بحث چھڑ گئی۔

نیویارک: ایم این این

پاکستان کی معیشت سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے CGTN America کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اپنے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے کے لیے 10 ارب امریکی ڈالر کے Exchange Stabilization Facility کے حصول کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر یہ سہولت حاصل ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف ملکی معیشت بلکہ روپے کی قدر اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

CGTN America کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے تقریباً 10 ارب ڈالر کے Exchange Stabilization Facility کے لیے رابطے کیے ہیں، جس کا بنیادی مقصد اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر یہ فنڈ حاصل ہو جاتا ہے تو پاکستان کے فارن ایکسچینج ریزروز میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے، جس سے روپے پر دباؤ کم ہوگا، درآمدی بل کی ادائیگی آسان ہوگی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے سامنے پاکستان کی مالی ساکھ بھی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت پہلے ہی آئی ایم ایف پروگرام، دوست ممالک کی مالی معاونت اور برآمدات و ترسیلات زر میں اضافے کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر 10 ارب ڈالر کی یہ سہولت حقیقت کا روپ دھارتی ہے تو پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا، جس سے نہ صرف بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ کم ہوگا بلکہ ملکی کرنسی میں استحکام، سرمایہ کاری میں اضافہ اور معاشی اعتماد بھی بہتر ہونے کی توقع ہے۔
تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ اس خبر میں باضابطہ حکومتی اعلان موجود نہیں۔ رپورٹ میں صرف ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے، اس لیے حکومت یا وزارتِ خزانہ کی جانب سے سرکاری تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب معاشی حلقے اس ممکنہ پیش رفت کو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم موقع قرار دے رہے ہیں، تاہم حتمی تصویر اس وقت واضح ہوگی جب حکومت یا متعلقہ ادارے اس حوالے سے باضابطہ مؤقف جاری کریں گے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں