پنجاب کو مکمل محفوظ بنانے کا مشن ،سیف سمارٹ سٹیز منصوبے کی یونین کونسل تک توسیع

لاہور:
ایم این این
پنجاب حکومت نے صوبے میں شہریوں کے تحفظ، جرائم کی روک تھام اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی کے نظام کو مزید وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں سیف سمارٹ سٹیز منصوبے کو پنجاب کی ہر تحصیل اور یونین کونسل تک پھیلانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

منصوبے کا بنیادی مقصد صوبے کے تمام علاقوں میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے امن و امان، ٹریفک مینجمنٹ، جرائم کی مانیٹرنگ اور شہریوں کے تحفظ کو بہتر بنانا ہے۔

سیف سمارٹ سٹیز منصوبے کے تحت مختلف علاقوں میں جدید نگرانی کے کیمروں، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کو مربوط کیا جائے گا، تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی، جرم یا ہنگامی صورتحال کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

منصوبے کی توسیع کے بعد صرف بڑے شہروں تک محدود نگرانی کے نظام کو پنجاب کے چھوٹے شہروں، تحصیلوں اور یونین کونسل کی سطح تک لے جایا جائے گا۔ اس اقدام سے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں بھی جدید سکیورٹی اور مانیٹرنگ کی سہولیات دستیاب ہونے کی توقع ہے۔

نئے نظام کے ذریعے پولیس اور متعلقہ اداروں کو جرائم کی روک تھام اور تفتیش میں بھی مدد ملے گی۔ جدید کیمروں اور ڈیجیٹل نگرانی کے ذریعے مشکوک افراد اور گاڑیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے، اہم مقامات کی نگرانی اور واقعات کے بعد شواہد اکٹھے کرنے کی صلاحیت بہتر ہوگی۔

سیف سمارٹ سٹیز منصوبہ ٹریفک مینجمنٹ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اہم شاہراہوں، چوراہوں اور حساس مقامات پر نگرانی کے ذریعے ٹریفک کی روانی بہتر بنانے، حادثات اور خلاف ورزیوں کی نشاندہی اور ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کو ممکن بنایا جا سکے گا۔

پنجاب کے ہر تحصیل اور یونین کونسل تک منصوبے کی توسیع سے ایک وسیع ڈیجیٹل سکیورٹی نیٹ ورک تشکیل پانے کی راہ ہموار ہوگی، جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کو شہری اور مقامی سطح پر سکیورٹی نظام کا حصہ بنانا ہے۔

حکومت کے مطابق اس منصوبے کا دائرہ کار بڑھنے سے پولیسنگ کے روایتی نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے میں مدد ملے گی اور شہریوں کو زیادہ محفوظ ماحول فراہم کرنے کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔

یوں پنجاب میں سیف سمارٹ سٹیز منصوبہ بڑے شہروں سے نکل کر تحصیل اور یونین کونسل کی سطح تک پہنچانے کی جانب بڑھ رہا ہے، جسے صوبے کے سکیورٹی اور شہری نگرانی کے نظام میں ایک بڑی توسیع قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں