اسلام آباد (ایم این این): آل پاکستان پیٹرولیم پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد اپنی مجوزہ ملک گیر ہڑتال دو ہفتوں کے لیے مؤخر کر دی، جس کے بعد ملک میں ایندھن کی فراہمی کے ممکنہ بحران کا خطرہ وقتی طور پر ٹل گیا۔
ایسوسی ایشن نے ایک روز قبل حکومت کے مجوزہ روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام کے خلاف مذاکرات ناکام ہونے پر بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سے غیر معینہ مدت کی ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ پیٹرول پمپ مالکان کا کہنا تھا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک بھر کے تقریباً 15 ہزار پیٹرول پمپ بند کر دیے جائیں گے۔
تاہم بدھ کو اسلام آباد میں ہونے والے نئے مذاکرات کے بعد دونوں فریقوں نے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جس کے نتیجے میں ہڑتال کی کال دو ہفتوں کے لیے مؤخر کر دی گئی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت نے پیٹرول پمپ مالکان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے تمام تحفظات اور مطالبات پر آئندہ دو ہفتوں میں تفصیلی غور کر کے قابلِ قبول حل نکالا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عوام اور پیٹرول ڈیلرز دونوں کے مفادات کا تحفظ چاہتی ہے اور تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق حکومت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs)، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرول پمپ مالکان سمیت تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت جاری رکھے گی تاکہ ایسا نظام وضع کیا جا سکے جو تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے قابل قبول ہو۔
دوسری جانب APPPOA کے نمائندوں نے کہا کہ حکومت کی یقین دہانی پر اعتماد کرتے ہوئے ہڑتال وقتی طور پر مؤخر کی گئی ہے تاکہ مذاکرات کو کامیاب بنانے کا موقع دیا جا سکے۔
ایسوسی ایشن نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام واپس لیا جائے، قیمتوں کا تعین زیادہ مستحکم بنیادوں پر کیا جائے اور گزشتہ تین برس سے منجمد پیٹرول ڈیلرز کے کمیشن میں فوری اضافہ کیا جائے۔
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب حکومت نے موجودہ ہفتہ وار قیمتوں کے اعلان کی جگہ بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں کی سات روزہ اوسط کی بنیاد پر روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام متعارف کرانے کی تجویز دی۔
وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق اس نظام کا مقصد شفافیت بڑھانا، عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو فوری طور پر مقامی مارکیٹ میں منتقل کرنا اور قیمتوں کے تعین کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔
تاہم پیٹرول ڈیلرز کا مؤقف ہے کہ روزانہ قیمتوں میں تبدیلی سے کاروباری منصوبہ بندی، ایندھن کے ذخائر کے انتظام اور مالی استحکام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، جبکہ اس کا زیادہ فائدہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پہنچے گا۔
ہڑتال مؤخر ہونے سے فوری طور پر ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی فراہمی معمول کے مطابق برقرار رہے گی، جبکہ حکومت اور پیٹرول پمپ مالکان آئندہ دو ہفتوں میں مذاکرات کے ذریعے مستقل حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔



