واشنگٹن (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والا تاریخی سول جوہری تعاون کا معاہدہ اس وقت تک حتمی منظوری حاصل نہیں کرے گا جب تک ریاض ابراہم معاہدوں میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات معمول پر نہیں لاتا۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن مقاصد کے لیے سول جوہری توانائی کے استعمال تک محدود ہے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں موجود جوہری پروگرام ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کی حتمی منظوری سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے سے مشروط ہوگی۔
ابراہم معاہدے 2020 میں ٹرمپ کی پہلی صدارت کے دوران طے پائے تھے، جن کے تحت اسرائیل اور متعدد عرب ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔ تاہم مشرق وسطیٰ میں ان معاہدوں پر اس بنیاد پر تنقید کی جاتی رہی ہے کہ ان میں فلسطین کے مسئلے کا کوئی جامع حل شامل نہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پر کشیدگی برقرار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق وزیر توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے پرامن جوہری تعاون اور دوطرفہ حفاظتی اقدامات سے متعلق دو اہم معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ محکمہ توانائی نے کہا کہ یہ معاہدے کئی دہائیوں پر محیط اربوں ڈالر کی شراکت داری کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں اور ان کا مقصد سول جوہری توانائی، معاشی تعاون اور جوہری عدم پھیلاؤ کو فروغ دینا ہے۔
اگرچہ معاہدوں کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم بعض امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی کمپنیاں سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کی تنصیب قائم کر سکتی ہیں۔ امریکی محکمہ توانائی نے اس حوالے سے باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
معاہدے کو امریکی کانگریس میں جائزے کے لیے پیش کیا جائے گا، تاہم ریپبلکن اکثریت کے باعث اس کی منظوری میں کسی بڑی رکاوٹ کا امکان نہیں۔ ماضی میں امریکی ارکان کانگریس اور اسرائیلی حکام سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کی صلاحیت پر تحفظات ظاہر کرتے رہے ہیں، کیونکہ اس سے مستقبل میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
سعودی عرب مسلسل اس مؤقف پر قائم ہے کہ وہ صرف پرامن مقاصد کے لیے سول جوہری پروگرام چاہتا ہے۔ واشنگٹن گزشتہ کئی برسوں سے اس معاہدے کو سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی اور وسیع تر دفاعی شراکت داری سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب نے بھی ستمبر 2025 میں باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کر کے اپنے دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنایا تھا۔
امریکہ 2009 میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی سول جوہری تعاون کا معاہدہ کر چکا ہے، تاہم یو اے ای اپنے ملک میں یورینیم افزودہ نہیں کرتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو خلیجی خطے میں اسلحے کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدے جوہری سلامتی اور عدم پھیلاؤ کے اعلیٰ ترین عالمی معیار پر پورا اترتے ہیں اور جدید امریکی ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں۔
یہ معاہدہ امریکی اٹامک انرجی ایکٹ کے سیکشن 123 کے تحت کیا گیا ہے، جس کے تحت امریکہ دنیا کے پچاس سے زائد ممالک کے ساتھ سول جوہری تعاون کے معاہدے رکھتا ہے۔
دفاعی اور جوہری ماہرین اس معاہدے پر مختلف آراء رکھتے ہیں۔ اٹلانٹک کونسل کے ماہر میتھیو کرونیگ نے خبردار کیا کہ سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت دینا عالمی عدم پھیلاؤ کی پالیسیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ اسی ادارے کی جینیفر ٹی گورڈن نے اس معاہدے کو روس اور چین کے مقابلے میں امریکہ کی اہم سفارتی کامیابی قرار دیا۔
دریں اثنا، صدر ٹرمپ نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے تجارتی جہازوں پر حالیہ حملوں کے بعد ایران کو سخت وارننگ بھی جاری کی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر حوثی دوبارہ سعودی یا تجارتی جہازوں کو نشانہ بناتے ہیں تو امریکہ اس کا ذمہ دار ایران کو سمجھے گا کیونکہ حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ کسی بھی حملے کی صورت میں امریکہ ایران اور حوثیوں دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی کرے گا، جبکہ انہوں نے اس بات پر مایوسی کا اظہار بھی کیا کہ حوثیوں نے حالیہ عرصے میں نسبتاً ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کے بعد دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں۔



