واشنگٹن/تہران/اسلام آباد (ایم این این): امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں دونوں ممالک کی جانب سے فوجی کارروائیوں، سخت بیانات اور جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ خلیج، آبنائے ہرمز اور یمن بھی اس تنازع کے دائرہ کار میں آتے دکھائی دے رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی افواج نے ایران کے خلاف تازہ فضائی حملے کیے ہیں۔ سینٹکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور شہری نقل و حمل کو لاحق خطرات کو محدود کرنا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی آپریشن مزید دو سے تین ہفتے تک جاری رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران نے مفاہمتی یادداشت (MoU) کی پاسداری نہیں کی، اس لیے واشنگٹن سخت کارروائی جاری رکھے گا۔
سینٹکام نے اعلان کیا کہ جمعرات کو رات 20:00 GMT سے ایران کی بندرگاہوں پر دوبارہ نافذ کی جانے والی امریکی بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔ امریکی افواج ایران کی بندرگاہوں کی جانب آنے اور جانے والے جہازوں کی نگرانی کریں گی، جبکہ انسانی امداد لے جانے والے اور قواعد پر عمل کرنے والے تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔
سینٹکام کے مطابق اپریل سے جون تک نافذ رہنے والی گزشتہ ناکہ بندی کے دوران 140 سے زائد جہازوں کا رخ موڑا گیا، نو غیر مطابقت رکھنے والے جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا جبکہ 50 سے زیادہ انسانی امدادی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا گیا۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے بندر عباس اور جزیرہ کیش میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔ سرکاری ٹی وی آئی آر آئی بی کے مطابق ایرانی بحریہ نے ایک “امریکی دشمن کے جنگی جہاز” پر کروز میزائل داغے، جبکہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات کے خلاف بھی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے کویت میں امریکی فوجی اہداف پر ڈرون حملے کیے جن میں پیٹریاٹ میزائل نظام، ایندھن کے ذخائر، اسلحہ ڈپو، مواصلاتی نظام اور نگرانی کے ٹاورز شامل تھے۔
ادھر ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے رپورٹ کیا کہ آبنائے ہرمز میں کئی ایسے جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جنہیں ایران نے اپنی حدود کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صدر ٹرمپ کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہ امریکا آبنائے ہرمز کا “نگہبان” بنے گا، کہا کہ ایران ہمیشہ اس اہم آبی گزرگاہ کا محافظ رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی انتہائی محفوظ زیرزمین جوہری تنصیب کوہِ کلنگ گاز لا (پک ایکس ماؤنٹین) کو بھی ممکنہ امریکی ہدف قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اس مقام پر بڑا حملہ کر سکتا ہے اور ایران کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
دریں اثنا یمن کے حوثی باغیوں نے اعلان کیا کہ انہوں نے سعودی عرب کے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا ہے اور بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کو سعودی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کی وارننگ بھی جاری کی ہے۔ یہ کارروائی یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی جانب سے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول صنعاء ایئرپورٹ پر حملے کے بعد سامنے آئی ہے۔
تازہ پیش رفت نے پورے مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع علاقائی جنگ کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے اثرات خلیجی ممالک، یمن، آبنائے ہرمز اور عالمی تجارتی بحری راستوں تک پھیل سکتے ہیں۔



