تہران/دوحہ/اسلام آباد (ایم این این): امریکا نے ایران پر مسلسل چھٹی رات بھی فضائی حملے کیے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری فوجی کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں وسیع جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق تازہ حملوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا تھا۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی ایران کے مختلف علاقوں، جن میں بندر عباس، اہواز، بوشہر، جزیرہ قشم، ایران شہر اور بندر خمیر شامل ہیں، میں متعدد دھماکے سنے گئے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق بندر عباس میں ریلوے سب اسٹیشن پر امریکی حملے کے نتیجے میں کم از کم دو افراد زخمی ہوئے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق بندر عباس میں ایک پہاڑی پر قائم مواصلاتی ٹاور کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے شہر کے بعض علاقوں کی بجلی منقطع ہوگئی جبکہ سات افراد زخمی ہوئے۔
تسنیم نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی جنگی طیاروں نے ایران شہر ایئرپورٹ پر میزائل حملہ بھی کیا، جبکہ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق بندر خمیر کے قریب ایک پل کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
امریکی فوج نے تصدیق کی کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر، جو ایرانی بندرگاہ کی جانب بڑھ رہا تھا، متعدد انتباہات نظرانداز کرنے پر ہیل فائر میزائلوں کے ذریعے ناکارہ بنا دیا گیا۔
بندر عباس سے موصول ہونے والی ابتدائی تصاویر میں حالیہ حملوں کے بعد مختلف مقامات پر تباہی کے آثار دیکھے گئے۔
دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے عراقی ذرائع کے حوالے سے کویت میں متعدد دھماکوں کی اطلاع دی، جن کی آوازیں عراق کے جنوبی شہر بصرہ تک سنی گئیں۔
ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایرانی شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تو “خطے کا تمام انفراسٹرکچر فولادی ضربوں سے تباہ کر دیا جائے گا۔”
ادھر کویت نے اعلان کیا ہے کہ جمعرات کی صبح سے اس کی فضائی حدود میں 32 مشتبہ ڈرونز کا سراغ لگایا گیا ہے۔
عراق میں امریکی سفارت خانے نے بھی اربیل کے قریب ڈرون حملے کے بعد امریکی شہریوں کو انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
امریکی فوج کے ایک ترجمان نے الجزیرہ کو بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں اور وہ کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
تازہ حملوں اور جوابی کارروائیوں کے بعد خطے میں جنگ کے پھیلنے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں، جبکہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز بدستور اس تنازع کا مرکزی محور بنی ہوئی ہے۔



