حکومت بلاول سے خوفزدہ،قومی اسمبلی اجلاس کے شیڈول میں بار بار تبدیلی

اسلام آباد: ایم این این

قومی اسمبلی اجلاس بلانے کے معاملے پر حکومت تاحال حتمی فیصلہ نہ کر سکی، اجلاس کے شیڈول میں بار بار تبدیلی نے سیاسی حلقوں میں سوالات اٹھا دیے۔

پارلیمانی حلقوں کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کی ممکنہ تقریر حکومت کے لیے اہم چیلنج بن گئی، حکومت ایوان میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی جانب سے سخت سیاسی مؤقف اختیار کیے جانے کے خدشے سے دوچار ہے۔

ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی کے فلور پر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی تیاری میں ہیں، ان کی ممکنہ سخت تقریر کے حوالے سے حکومتی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

قومی اسمبلی اجلاس بلانے کے معاملے پر حکومت مخمصے کا شکار ہے، پارلیمانی معاملات کو سازگار بنا کر اجلاس طلب کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاسی معاملات کو قدرے سازگار بنانے کے بعد قومی اسمبلی اجلاس بلانے پر مشاورت جاری ہے، بعض پارلیمانی رہنماؤں نے اجلاس اگست کے آخری ایام میں بلانے کا مشورہ دیا ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی اور وزیر پارلیمانی امور کے درمیان بھی اجلاس کے شیڈول پر مشاورت ہو چکی، تاہم حتمی تاریخ اور ایجنڈے کے حوالے سے اتفاقِ رائے نہ ہو سکا۔

قومی اسمبلی اجلاس کے شیڈول میں بار بار تبدیلی سے پارلیمانی حلقوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں، اجلاس فوری بلانے یا اگست کے آخر تک مؤخر کرنے پر مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں۔

حکومتی حلقوں میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول میں اجلاس بلانے سے اپوزیشن کو حکومت پر دباؤ بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے، جبکہ بلاول بھٹو زرداری کی ممکنہ سخت تقریر معاملے کو مزید سیاسی رنگ دے سکتی ہے۔

پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت اجلاس ایسی صورتحال میں بلانا چاہتی ہے جب سیاسی درجہ حرارت نسبتاً کم ہو، تاکہ ایوان کی کارروائی کو غیر ضروری سیاسی کشیدگی سے بچایا جا سکے۔

بلاول بھٹو زرداری کی قومی اسمبلی میں ممکنہ تقریر کو حکومتی حلقوں میں خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے، ان کے متوقع سیاسی نکات اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کے حوالے سے مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے۔

اجلاس کی تاریخ کے حوالے سے حتمی فیصلہ نہ ہونے کے باعث قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا شیڈول بھی بار بار تبدیل کیا جا رہا ہے، پارلیمانی حلقے اب حکومت کے حتمی فیصلے کے منتظر ہیں۔

بعض حکومتی و پارلیمانی رہنماؤں کی رائے ہے کہ اجلاس اگست کے آخری ہفتے میں بلایا جائے،جبکہ دیگر حلقے جلد اجلاس طلب کرنے کے حق میں ہیں۔

ذرائع کے مطابق حتمی فیصلہ سیاسی صورتحال، حکومتی اتحادیوں سے مشاورت اور ایوان میں ممکنہ کارروائی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں