حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کر دیں، ایران۔امریکہ جنگ کے باعث عالمی تیل منڈی میں بے چینی برقرار

اسلام آباد (ایم این این): وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 316 روپے 15 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے 5 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 18 جولائی سے 20 جولائی تک ہوگا، جو حکومت کے نئے نظام کے تحت عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے مطابق زیادہ بار بار نظرثانی کے سلسلے کا حصہ ہے۔

حکام کے مطابق حالیہ اضافہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کا نتیجہ ہے، جس کی بنیادی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور خلیجی خطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال ہے۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کی بنیادی وجوہات ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل پروگرام، خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کا کردار، مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی اور آبنائے ہرمز پر بڑھتی ہوئی کشیدگی ہیں، جو عالمی تیل کی ترسیل کا انتہائی اہم راستہ ہے۔

حالیہ فوجی کارروائیوں اور خلیجی خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات نے عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو عالمی خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں ایندھن، ٹرانسپورٹ اور مہنگائی پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں