خواجہ آصف کا ماضی اور طرز تکلم

وزیر ددفاع خواجہ آصف متنازعہ ترین سیاسی شخصیت کیوں؟

اسلام آباد : رپورٹ ایم این این

سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف پاکستان کی سیاست کی ان شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جو اپنے جارحانہ اندازِ سیاست، متنازع بیانات اور سخت سیاسی مؤقف کے باعث مسلسل عوامی اور سیاسی بحث کا حصہ رہے ہیں۔ کئی دہائیوں پر محیط ان کے سیاسی سفر میں اہم وزارتوں کے ساتھ ساتھ مختلف قانونی اور سیاسی تنازعات بھی ان کے ساتھ جڑے رہے۔
پارلیمان کا ایوان ہو یا عوامی اجتماعات، خواجہ آصف کے متعدد بیانات سیاسی تنازع کا باعث بنتے رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں اور ناقدین نے ان کے اندازِ گفتگو اور بعض ریمارکس پر اعتراضات اٹھائے، جبکہ خواجہ آصف ان تنقیدوں کو سیاسی اختلاف کا حصہ قرار دیتے رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے بعض بیانات نے بھی حکومتی کارکردگی سے متعلق سیاسی بحث کو مزید تیز کر دیا۔ اپوزیشن نے ان بیانات کو حکومت کے اندر اختلافات سے تعبیر کیا، جبکہ حکومتی حلقوں نے اس تاثر سے اختلاف کیا۔ اسی سیاسی ماحول میں خواجہ آصف کی جانب سے مختلف سیاسی رہنماؤں پر کی جانے والی تنقید بھی مسلسل توجہ کا مرکز بنی رہی۔
خواتین سے متعلق متنازع بیانات بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں جو انتہائی بے ہودہ قرار دی جاتی ہیں۔ اور مختلف مواقع پر خواتین سیاست دانوں سے متعلق ان کے بعض ریمارکس پر شدید سیاسی ردِعمل سامنے آیا۔ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ان پر تنقید کی گئی، بجائے معزرت کے اپنے غیر پارلیمانی ریمارکس پر ڈھٹائی کی حد تک ڈٹ جانا کوئی خواجہ آصف سے سیکھے۔
پارلیمنٹ میں تلخ سیاسی مکالمے
قومی اسمبلی میں ان کی متعدد تقاریر اور اپوزیشن کے ساتھ سخت جملوں کا تبادلہ خبروں کا حصہ بنتا رہا۔ ثناء اللہ مستی خیل کے ساتھ ہونے والی تلخ نوک جھونک بھی انہی واقعات میں شامل ہے، جس نے ایوان کی کارروائی کو سیاسی بحث کا مرکز بنا دیا۔
فوج اور قومی سلامتی سے متعلق بیانات بھی پوری دنیا کے سامنے ہیں۔ فوج، قومی سلامتی اور سول ملٹری تعلقات سے متعلق ان کے بعض بیانات بھی سیاسی اور عوامی بحث کا موضوع بنے، جن پر موجودہ وزیر دفاع اس طعنے سے جان چھڑائے نہیں چھٹ سکتی۔ خواجہ آصف نے ان معاملات پر اپنے بھونڈے انداز میں مؤقف کا دفاع بھی کرتے رہتے ہیں۔
قانونی اور عدالتی معاملات
خواجہ آصف کے سیاسی کیریئر کے دوران اقامہ کیس، نیب کی جانب سے آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات اور دیگر قانونی معاملات بھی سامنے آئے۔ اور معاملات میں شفافیت نہ ہونے اور گڑ بڑ پر مختلف نوعیت کے مقدمات میں نہ صرف گرفتار ہوئے بلکہ انکی اہلیہ اور بیٹے پر بھی ہاوسنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے پر مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ ان دنوں جہاں وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہباز شریف کی َہر قیادت خواجہ آصف کی پارٹی کے زیر نگرانی موجودہ نظام حکومت کو ناکام ترین قرار دیا تو خواجہ آصف جو بد زبانی میں مشہور ہیں۔ وہ بجائے محسن نقوی کو جواب دینے کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو اپنے ہی اتحادیوں پر غلیظ زبان اور بے ہودہ الزامات لگانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات اور کشمیریوں سے متعلق ریمارکس جنہیں ان کے مخالف شرمناک اور وزیراعظم سے خواجہ آصف کو لات ما کر حکومت سے باہر نکالنے کا مطالبہ بھی کر رہےہیں۔ کشمیر الیکشن میں اپنی جماعت کے لئے ووٹ مانگنے اور کشمیری عوام کے سامنے حقائق رکھنے پر استحکام پاکستان پارٹی اور اسکی قیادت کے خلاف خواجہ آصف کے حالیہ بیانات کو وزیر دفاع کی آئی پی پی کے خلاف غلیظ اور من گھڑت مہم قرار دے رہے ہیں۔
موجودہ ملکی سیاسی حالات جو وزیراعظم شہباز شریف کے لئے مشکلات کا باعث بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ خواجہ آصف کے اتحادیوں کے خلاف لفظی وار اور الزامات سیاسی صورتحال اور مزید پیچیدہ بنا دینگے سیاسی مبصرین خواجہ آصف کا اپنوں کے خلاف جارہانہ انداز سیاسی فریسٹیشن سمجھتے ہیں۔ اور خدشہ ظاہر کر رہےہیں کہ سینیئر حکومتی وزیر کے الزام تراشی اور اتحادیوں کو نشانے پر رکھنے کے روییے کے مستقبل قریب میں اچھے نتائج برآمد نہیں ہونگے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں