قاہرہ/اسلام آباد (ایم این این): چین کے صدر شی جن پنگ نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بیرونی مداخلت کے خلاف مزاحمت کریں، اپنے مستقبل کے فیصلے خود کریں اور خطے کے لیے ایک نئے علاقائی سکیورٹی نظام کے قیام پر غور کریں۔
چینی صدر نے بدھ کے روز مصر کے دورے کے دوران یہ بات کہی۔ یہ چار سال کے دوران ان کا مشرقِ وسطیٰ کا پہلا دورہ ہے، جو ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے باعث خطے میں سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔
صدر شی جن پنگ کا قاہرہ پہنچنے پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے فوجی اعزاز کے ساتھ استقبال کیا۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق شی جن پنگ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو اپنے مقدر کا خود مالک بننا چاہیے اور خطے کے لیے ایک نئے سکیورٹی ڈھانچے کی تشکیل پر غور کرنا چاہیے۔
چینی صدر نے اہم عالمی سمندری راستوں کے تحفظ کے لیے علاقائی ممالک کے ساتھ تعاون کی پیشکش بھی کی۔
آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جاری کشیدگی اور تجارتی جہاز رانی میں رکاوٹوں کے باعث ان اہم سمندری راستوں کی سلامتی عالمی سطح پر ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔
یہ آبی گزرگاہیں عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور تجارتی بحری جہاز رانی کے لیے انتہائی اہم حیثیت رکھتی ہیں۔
چین اور مصر نے مشترکہ بیان میں سکیورٹی تعاون اور انسداد دہشت گردی کے شعبے میں رابطہ کاری مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
دونوں ممالک نے ڈیٹا سینٹرز، سیمی کنڈکٹرز اور اہم معدنیات کی سپلائی چینز کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا۔
اس کے علاوہ چین اور مصر نے باہمی تجارت اور سرمایہ کاری میں ایک دوسرے کی قومی کرنسیوں کے زیادہ استعمال کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا۔
شی جن پنگ کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے کئی روایتی اتحادی طویل عرصے سے جاری تنازعات کے بعد اپنے تزویراتی تعلقات اور مستقبل کی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔
جنگ اور علاقائی کشیدگی کے باعث تجارت متاثر ہوئی ہے، معیشتوں کو نقصان پہنچا ہے اور خطے میں امریکا کے طویل المدتی کردار سے متعلق سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
مصر مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے اہم دفاعی شراکت داروں میں شامل ہے اور اسے واشنگٹن کی جانب سے سالانہ تقریباً 1.3 ارب ڈالر کی فوجی امداد ملتی ہے۔
تاہم قاہرہ نے حالیہ برسوں میں اپنی خارجہ پالیسی کے تحت چین کے ساتھ اقتصادی، سیاسی اور فوجی تعلقات میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔
مصر کی ’تزویراتی توازن‘ کی پالیسی
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت کے دوران مصر کی خارجہ پالیسی کو ’’تزویراتی توازن‘‘ کی پالیسی قرار دیا ہے۔
شی جن پنگ کے دورے سے قبل شائع ہونے والے ایک مضمون میں صدر السیسی نے کہا کہ مصر چین سمیت دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کا دائرہ وسیع کرنا چاہتا ہے۔
سابق مصری سفارت کار ایمن زین الدین کے مطابق مصر اپنے بین الاقوامی اور تزویراتی تعلقات کو متنوع بنانا چاہتا ہے، جبکہ قاہرہ اور بیجنگ کے مفادات کئی شعبوں میں ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔
چین کے لیے مصر کا جغرافیائی محل وقوع، بڑی آبادی اور مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی اثر و رسوخ اسے ایک انتہائی اہم شراکت دار بناتا ہے۔
مصر نہر سویز کا میزبان ملک ہے، جو دنیا کے اہم ترین تجارتی سمندری راستوں میں شامل ہے اور مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور یورپ کے درمیان ایک اہم رابطہ فراہم کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق چین مصر کو افریقہ اور عرب دنیا میں اپنی سرمایہ کاری اور اقتصادی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ایک اہم دروازے کے طور پر دیکھتا ہے۔
فلسطین کے مسئلے سمیت علاقائی سفارت کاری میں مصر کا کردار بھی بیجنگ کے لیے اس کی اہمیت میں اضافہ کرتا ہے۔
گزشتہ ماہ مصر اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تعاون کا مظاہرہ ’’ایگلز آف سولائزیشن‘‘ فوجی مشقوں کے دوران بھی دیکھنے میں آیا۔
ان مشقوں میں چینی ساختہ جے-16 لڑاکا طیاروں اور مصر کے زیر استعمال فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں کے درمیان ایک غیر معمولی فضائی جنگی مشق بھی شامل تھی۔
یہ مشقیں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی اور فوجی تعاون کی ایک اور اہم مثال قرار دی جا رہی ہیں۔
چین اور مصر کے درمیان اقتصادی تعلقات میں تیزی
چین مصر کے اہم ترین اقتصادی شراکت داروں میں شامل ہوتا جا رہا ہے۔
11 کروڑ سے زائد آبادی اور نہر سویز جیسے انتہائی اہم عالمی تجارتی راستے کی وجہ سے مصر چینی کمپنیوں کے لیے ایک بڑی مارکیٹ اور سرمایہ کاری کی اہم منزل ہے۔
رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران مصر نے تقریباً 10 ارب ڈالر مالیت کی چینی مصنوعات درآمد کیں۔
2014 میں صدر السیسی کے چین کے دورے اور دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی شراکت داری کے معاہدے کے بعد مصر میں چینی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
چینی کمپنیوں نے مصر میں کنٹینر بندرگاہوں، صنعتی زونز، گرین ہائیڈروجن منصوبوں اور لوہے کے پائپ، گاڑیوں کے ٹائر اور سیٹلائٹ تیار کرنے والی تنصیبات میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔
صدر شی جن پنگ کے دورے کے دوران مصری حکام نے چینی تعاون سے قائم ایک صنعتی زون کو مزید وسعت دینے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا۔
دریں اثنا، زیڈ سی ربڑ گروپ نے مصر میں 50 کروڑ ڈالر کی لاگت سے ٹائر بنانے کے ایک بڑے کمپلیکس کے قیام کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
قاہرہ میں شی جن پنگ کے دورے کو بھرپور توجہ حاصل رہی، جہاں کئی سڑکوں کو چینی پرچموں سے سجایا گیا اور مصر کے تاریخی اسفنکس اور چین کی عظیم دیوار کی تصاویر نمایاں کی گئیں۔
چینی صدر کا یہ دورہ چین اور مصر کے درمیان بڑھتی ہوئی تزویراتی شراکت داری اور مشرقِ وسطیٰ میں بیجنگ کے سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی کردار کو وسعت دینے کی کوششوں کا ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔



