مردوں کا شارٹس پہننا خواتین کے لئے ہراسانی قرار

مرد کولیگز کی ننگی ٹانگوں کے بال “لیگ ہیئر ہراسمنٹ” سمجھا جانے لگا

اسلام آباد / ٹوکیو: ایم این این

جاپان میں شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے دفاتر میں مرد ملازمین کو شارٹس پہننے کی اجازت دینے کے حکومتی اقدام نے ایک غیر معمولی سماجی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بعض خواتین ملازمین نے اپنے مرد کولیگز کی ننگی ٹانگوں اور ان پر موجود بالوں کو “لیگ ہیئر ہراسمنٹ” قرار دیتے ہوئے اسے دفتر کے ماحول میں بے آرامی اور ذہنی کوفت کا باعث قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹوکیو کی گورنر یوریکو کوئیکے نے رواں برس اپریل میں “ٹوکیو کول بز” مہم کا آغاز کیا، جس کا مقصد شدید گرمی کے دوران ملازمین کو روایتی سوٹ اور ٹائی کے بجائے ٹی شرٹس، اسپورٹس شوز اور شارٹس پہننے کی ترغیب دینا ہے تاکہ توانائی کی بچت کے ساتھ ملازمین کو آرام دہ ماحول بھی فراہم کیا جا سکے۔
بی بی سی کے مطابق اگرچہ کئی مرد ملازمین نے اس پالیسی کو سراہا، تاہم بعض خواتین کا کہنا ہے کہ ان پر اب بھی ٹائٹس یا مخصوص لباس پہننے کی سماجی توقع برقرار ہے، جبکہ مردوں کو شارٹس پہننے کی کھلی اجازت دے دی گئی ہے۔ خواتین کا کہنا ہے کہ مرد ساتھیوں کی ٹانگوں کے بال دیکھنا ان کے لیے ناگوار تجربہ ہے، جسے سوشل میڈیا پر “سونے ہارا” (Sunehara) یا “لیگ ہیئر ہراسمنٹ” کا نام دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس نئی بحث کے بعد بعض مرد ملازمین بھی اپنی ظاہری شخصیت کے حوالے سے محتاط ہو گئے ہیں۔ ٹوکیو کے ایک معروف کاسمیٹک کلینک کے مطابق شارٹس پہننے والے مردوں میں لیزر ہیئر ریموول کروانے کا رجحان بڑھ گیا ہے، کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کی ٹانگوں کے بال دوسروں کے لیے باعثِ ناگواری بنیں۔
دوسری جانب ٹوکیو حکومت کے ماحولیاتی حکام نے واضح کیا ہے کہ حکومت کا مقصد کسی مخصوص لباس کو لازمی قرار دینا نہیں بلکہ شدید گرمی کے دوران لوگوں کو زیادہ آرام دہ انتخاب فراہم کرنا ہے، بشرطیکہ لباس پیشہ ورانہ ماحول کے مطابق ہو اور کسی کے لیے توہین آمیز نہ ہو۔
بی بی سی کے مطابق جاپان اس وقت شدید گرمی کی لہر کی زد میں ہے، جہاں بعض علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ صرف ایک ہفتے کے دوران ہیٹ اسٹروک سے 7 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 4 ہزار 580 سے زائد افراد کو اسپتال منتقل کرنا پڑا۔ ماہرین نے شہریوں کو پانی کا زیادہ استعمال، ایئر کنڈیشننگ اور گرمی سے بچاؤ کے دیگر اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ ہیٹ اسٹروک سے محفوظ رہا جا سکے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں