واشنگٹن (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز واضح اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا آمد کے دوران کسی صورت گرفتار نہیں ہونے دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیویارک کے نئے میئر زوہران ممدانی نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ یہ جائزہ لے رہی ہے کہ آیا بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے وارنٹ کی روشنی میں نیتن یاہو کی گرفتاری ممکن ہے یا نہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا، “بنیامین نیتن یاہو کو امریکا میں کسی بھی شکل میں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم اس وقت ایران کے خلاف جنگی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب نیویارک کے میئر زوہران ممدانی نے نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان کی قانونی ٹیم اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا نیویارک پولیس کو کسی غیر ملکی سربراہ حکومت کی گرفتاری کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔
ممدانی نے کہا کہ ان کے خیال میں نیتن یاہو کو غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث ہیگ میں مقدمے کا سامنا کرنا چاہیے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ انہیں ابھی یہ واضح نہیں کہ وہ قانونی طور پر ایسی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ صرف وہی اقدامات کرے گی جن کی اجازت قانون دیتا ہے اور وہ اس مقصد کے لیے کوئی نیا قانون خود وضع نہیں کرے گی۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے 2024 میں کہا تھا کہ اسے ایسے معقول شواہد ملے ہیں جن کی بنیاد پر اسرائیلی وزیراعظم پر غزہ جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری عائد ہو سکتی ہے۔
ممدانی نے اپنے 2025 کے میئر انتخابی مہم کے دوران بھی اعلان کیا تھا کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ ان کی گرفتاری کے لیے اقدامات کریں گے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ممدانی کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر آئی سی سی کو غیر جانبدار عدالت تسلیم کرنے سے انکار کیا اور اسے سیاسی بنیادوں پر قائم ادارہ قرار دیا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ انہیں گرفتاری کی دھمکیوں پر کوئی تشویش نہیں، بلکہ انہوں نے میئر ممدانی پر فلسطینی تنظیم حماس کی حمایت کا الزام بھی عائد کیا۔
ایک ریڈیو انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ ممدانی کو پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کن افراد یا گروہوں کی مذمت یا حمایت کر رہے ہیں۔
تاہم ممدانی اس سے قبل حماس کے حق میں لگنے والے نعروں کی مذمت کر چکے ہیں اور رواں سال جنوری میں انہوں نے حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ تشدد کی حمایت نہیں کرتے۔
نیتن یاہو کی ممکنہ آمد سے قبل یہ معاملہ ایک بار پھر بین الاقوامی قانون، سفارتی استثنیٰ، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹس اور امریکی حکام کی قانونی ذمہ داریوں پر عالمی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔



