نیتن یاہو کی ممکنہ گرفتاری پر قانونی مشاورت کا انکشاف

نیویارک (ایم این این): نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ اس بات کا قانونی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا اگر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آتے ہیں تو انہیں گرفتار کرنے کا قانونی اختیار موجود ہے یا نہیں۔

نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں، جو ہفتے کے روز شائع ہوا، زوہران ممدانی نے بتایا کہ وہ اس معاملے پر نیویارک سٹی کے لا ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مسلسل مشاورت کر رہے ہیں تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری کی روشنی میں شہر کے حکام کے پاس کیا قانونی اختیارات موجود ہیں۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نیتن یاہو کے خلاف غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم، بشمول بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات پر وارنٹ جاری کر رکھا ہے۔ اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور آئی سی سی کے دائرہ اختیار کو بھی تسلیم نہیں کرتا۔

زوہران ممدانی نے کہا کہ ان کے نزدیک نیتن یاہو کا مقام “دی ہیگ” ہے جہاں بین الاقوامی فوجداری عدالت قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو پر باضابطہ طور پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے اور دنیا بھر میں بہت سے لوگ انہیں جنگی جرائم کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال یہ قانونی طور پر واضح نہیں کہ آیا وہ نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ (NYPD) کو کسی غیر ملکی سربراہ حکومت کو حراست میں لینے کی ہدایت دے سکتے ہیں یا نہیں۔

انہوں نے کہا، “ہم قانون کے دائرے میں رہ کر ہی کارروائی کریں گے۔ قانون مجھے جو اختیار دے گا، میں اسی کے مطابق عمل کروں گا، ہم اپنی طرف سے کوئی نیا قانون نہیں بنا سکتے۔”

توقع کی جا رہی ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کے لیے نیویارک آئیں گے، جس کے باعث اس معاملے کو مزید اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔

زوہران ممدانی کے بیان پر اسرائیل کے اقوام متحدہ میں سفیر ڈینی ڈینن نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نیویارک کے میئر کو شہر میں بڑھتے ہوئے یہود مخالف واقعات سے نمٹنے پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ اسرائیل کے خلاف بیانات دے کر شہ سرخیاں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں ڈینی ڈینن نے کہا کہ نیتن یاہو مقررہ پروگرام کے مطابق نیویارک آئیں گے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے اور اسرائیل کے دفاع کے حق کا بھرپور دفاع کریں گے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر کسی کو گرفتار ہونا چاہیے تو وہ زوہران ممدانی ہیں۔

یہ معاملہ پہلی مرتبہ سامنے نہیں آیا۔ 2025ء کی انتخابی مہم کے دوران بھی زوہران ممدانی نے وعدہ کیا تھا کہ اگر آئی سی سی کا وارنٹ برقرار رہا اور نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ ان کی گرفتاری کے لیے اقدامات کریں گے۔ اس وقت بھی انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم کو جنگی جرائم کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے غزہ میں نسل کشی کا الزام عائد کیا تھا، جسے اسرائیل مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق نیتن یاہو نے ممدانی کے مؤقف کو اہمیت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس قسم کے بیانات سے پریشان نہیں ہیں۔ ایک ریڈیو انٹرویو میں انہوں نے زوہران ممدانی پر حماس کی حمایت کا الزام بھی عائد کیا۔

دوسری جانب ممدانی اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ وہ حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں اور انہوں نے رواں سال جنوری میں حماس کے حق میں لگائے جانے والے نعروں کی بھی مذمت کی تھی، تاہم وہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے مسلسل ناقد رہے ہیں۔

اپنے تازہ انٹرویو میں زوہران ممدانی نے ایک بار پھر غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو “نسل کشی” قرار دیتے ہوئے امریکی حکومت کی جانب سے اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد پر بھی سخت تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ نیویارک کے شہریوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ جب شہر کے اندر بنیادی مسائل موجود ہیں تو اربوں ڈالر دنیا کے دوسرے حصے میں جنگی کارروائیوں کے لیے مختص کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے غزہ میں امدادی کارکن محمد الوحیدی کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں خاموش رہنا ممکن نہیں، جبکہ مسلسل بمباری انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔

امریکی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے ممدانی نے کہا کہ غزہ اور فلسطین کے حوالے سے واشنگٹن کی پالیسی کئی برسوں سے ناکام رہی ہے اور اس ناکامی کا تعلق کسی ایک سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ مجموعی امریکی حکمت عملی سے ہے۔

اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ میں مختلف سیاسی نظریات رکھنے والے افراد شامل ہیں اور وہ ملازمتوں کے لیے امیدواروں سے اسرائیل یا فلسطین کے بارے میں ان کے خیالات نہیں پوچھتے کیونکہ زیادہ تر بلدیاتی ذمہ داریوں کا ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

ادھر امریکا میں بھی اسرائیل کے لیے فوجی امداد کے معاملے پر اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ترقی پسند ڈیموکریٹ ارکان اسرائیل کو امریکی امداد محدود یا ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ اعتدال پسند ڈیموکریٹس دفاعی نوعیت کی امداد جاری رکھنے کے حامی ہیں۔

حال ہی میں امریکی ایوان نمائندگان میں تقریباً نصف ڈیموکریٹ ارکان نے اسرائیل کو امداد روکنے کی ترمیم کی حمایت کی، تاہم 103 ڈیموکریٹس اور ایک ریپبلکن کی حمایت کے باوجود یہ ترمیم منظور نہ ہو سکی۔

نیتن یاہو اس وقت نہ صرف بین الاقوامی سطح پر قانونی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ اسرائیل میں بدعنوانی کے مقدمات اور 27 اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات بھی ان کے سیاسی مستقبل کے لیے انتہائی اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔

زوہران ممدانی کے حالیہ بیانات نے ایک بار پھر بین الاقوامی عدالت کے وارنٹ، اسرائیل۔غزہ جنگ، اور امریکہ کی مشرق وسطیٰ پالیسی پر جاری عالمی بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں