بشکیک (ایم این این)؛ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی خطے کی زندگی کی بنیاد ہے اور اسے کبھی بھی ہتھیار، دباؤ یا سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
منگل کو اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ خطہ پائیدار امن کے بغیر اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لا سکتا۔
بھارت کا نام لیے بغیر وزیراعظم شہباز شریف نے سندھ طاس معاہدے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ آبی وسائل سے متعلق معاہدے سنجیدہ اور لازمی بین الاقوامی ذمہ داریاں ہیں، جنہیں سیاسی سہولت کے لیے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پانی لاکھوں انسانوں کی زندگی کا ذریعہ، زمینوں کی زرخیزی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے، اس لیے اسے نہ تو ہتھیار بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی سیاسی دباؤ یا بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دہشت گردی خطے کے لیے سنگین خطرہ
وزیراعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کو خطے کو درپیش سنگین ترین خطرات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی دہائیوں کے دوران پاکستان 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دے چکا ہے جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث ملک کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے علاقائی انسداد دہشت گردی ڈھانچے (RATS) کے چیئرمین کی حیثیت سے پاکستان نے علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے فعال کردار ادا کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے، تاہم جب تک دہشت گرد افغان سرزمین کو پاکستان اور دیگر ممالک کے خلاف استعمال کرتے رہیں گے، خطے میں پائیدار امن کا قیام مشکل رہے گا۔
پاکستان نے ایس سی او کی سربراہی سنبھال لی
پاکستان نے باضابطہ طور پر 2026-27 کے لیے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی سربراہی سنبھال لی ہے جبکہ آئندہ سربراہی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اپنی سربراہی درج ذیل عنوان کے تحت آگے بڑھائے گا:
”ویژن کو عمل میں بدلنا: رابطہ سازی، جدت اور مشترکہ خوشحالی“
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مجوزہ منصوبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، توانائی، غربت میں کمی، قدرتی آفات سے نمٹنے، صحت، ثقافت اور کھیلوں سمیت اہم شعبوں کو ترجیح دی جائے گی۔
پاکستان نے ایس سی او کے رکن ممالک کے لیے خودمختار مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے اور گورننس سے متعلق ایک مشترکہ فریم ورک قائم کرنے کی تجویز بھی دی۔
وزیراعظم نے کہا کہ علاقائی رابطہ سازی اب صرف ایک انتخاب نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ضرورت بن چکی ہے۔
انہوں نے محفوظ تجارتی راستوں، توانائی راہداریوں اور مضبوط سپلائی چینز کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) خطے کی معیشتوں کو بحیرہ عرب سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
امن اور سفارت کاری پر زور
وزیراعظم نے بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، عالمی معیشت کی تقسیم، موسمیاتی بحران اور تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایس سی او خطے کے ممالک کے درمیان امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے اجتماعی عزم کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ اور ایس سی او کے چارٹر کے بنیادی اصولوں پر عمل پیرا ہے اور تمام تنازعات کے پرامن حل کے لیے بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے۔
وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نزدیک اسلام آباد معاہدے پر مخلصانہ عمل درآمد خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے اہم راستہ فراہم کر سکتا ہے۔
مکہ دفاعی اتحاد کا ذکر
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے، مکہ دفاعی اتحاد، کا بھی حوالہ دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ اتحاد بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔
فلسطین اور اقوام متحدہ میں اصلاحات
وزیراعظم نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت سمیت دنیا بھر کے مظلوم عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔
ایس سی او پلس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں فوری اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں اقوام متحدہ کو زیادہ مؤثر، جوابدہ اور عالمی مسائل سے نمٹنے کے قابل بنانا ضروری ہے۔
عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں
ایس سی او اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں اور غیر رسمی گفتگو کی۔
انہوں نے چین، روس، ترکیہ، ایران، ازبکستان، قازقستان، تاجکستان، بیلاروس اور دیگر ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔
وزیراعظم نے بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو سے بھی ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے تجارت، صنعت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فنی تربیت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم نے بیلاروس کے صدر کو دوبارہ پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔
اسحاق ڈار کی سفارتی ملاقاتیں
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی ایس سی او اجلاس کے موقع پر چین، روس، ایران، ازبکستان، آذربائیجان، تاجکستان، بیلاروس اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات میں اسحاق ڈار نے خطے میں امن کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مخلصانہ عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے بھی ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک نے پاکستان اور چین کے درمیان آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اسحاق ڈار نے ترک اور روسی حکام سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال، سلامتی کے امور اور سفارتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کے اختتام پر ایس سی او ممالک پر زور دیا کہ وہ محاذ آرائی کے بجائے تعاون، تقسیم کے بجائے مکالمے اور خوف کے بجائے امید کا راستہ اختیار کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایس سی او کو صرف بدلتی ہوئی دنیا کا مشاہدہ کرنے کے بجائے خطے اور عوام کے بہتر مستقبل کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔



