اسلام آباد: ایم این این — وفاقی کابینہ میں ممکنہ ردوبدل کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف نے مشاورت کا عمل شروع کر دیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کی کارکردگی رپورٹس وزیراعظم آفس کو موصول ہونا شروع ہو گئی ہیں، جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے فروری 2024 سے اب تک کی وزارتی کارکردگی کی تفصیلی رپورٹس طلب کی گئی تھیں، جن کی بنیاد پر کابینہ میں تبدیلیوں سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف مختلف وفاقی وزراء سے انفرادی ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں، جن میں متعلقہ وزارتوں کی کارکردگی، اہداف کے حصول اور حکومتی ترجیحات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے وزارتوں اور ڈویژنز کی کارکردگی کا مجموعی جائزہ مکمل کرنے کے بعد کابینہ میں ردوبدل کے حوالے سے حتمی مشاورت کی جائے گی۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے وزرائے مملکت کو وفاقی وزیر بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جبکہ کمزور کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی وزارتوں اور ان کے سربراہان کے حوالے سے بھی فیصلہ متوقع ہے۔ وفاقی کابینہ کے ساتھ اعلیٰ بیوروکریسی میں بھی بعض اہم تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزراء کی انفرادی کارکردگی سے متعلق دو اداروں کی رپورٹس پہلے ہی وزیراعظم شہباز شریف کے پاس موجود ہیں۔ ان رپورٹس میں وزارتوں کی کارکردگی، اہداف پر پیش رفت اور حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد کا جائزہ شامل ہے۔ وزیراعظم ان رپورٹس اور وزارتوں سے موصول ہونے والی تازہ کارکردگی رپورٹس کو سامنے رکھتے ہوئے کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ کریں گے۔
دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی بھی وفاقی کابینہ کے اراکین کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے وزارتوں کی کارکردگی کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی تجویز بھی دی ہے، تاکہ وزارتوں کی کارکردگی کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اسی ماہ وفاقی وزراء اور وزارتوں کی کارکردگی رپورٹس پر اپنا کام مکمل کر لیں گے، جس کے بعد کابینہ میں ردوبدل کے حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق کابینہ میں تبدیلیوں کا فیصلہ صرف سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ وزراء اور وزارتوں کی کارکردگی کو بھی بنیادی معیار بنایا جائے گا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ میں ردوبدل سے قبل مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف سے بھی مشاورت کی جائے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے تمام متعلقہ رپورٹس اور تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد پارٹی قیادت سے مشاورت کی جائے گی، جس کے بعد کابینہ میں ممکنہ تبدیلیوں کے حوالے سے حتمی فیصلہ سامنے آنے کا امکان ہے۔



