پاکستان عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم (WAICO) کا بانی رکن بن گیا، چین میں معاہدے پر دستخط

شنگھائی (ایم این این): پاکستان عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم (ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن – WAICO) کا بانی رکن بن گیا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعرات کو چین کے شہر شنگھائی میں تنظیم کے قیام کے معاہدے پر پاکستان کی جانب سے دستخط کیے۔

دفتر خارجہ کے مطابق اس معاہدے پر دستخط پاکستان کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں عالمی تعاون کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، خصوصاً ترقی پذیر ممالک اور گلوبل ساؤتھ کے مفادات کے تحفظ کے حوالے سے۔

دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان بطور بانی رکن دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں موجود تفاوت کو کم کرنے، جدید ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی کو فروغ دینے اور پائیدار ترقی کے لیے AI کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے گا۔

اسحاق ڈار دو روزہ سرکاری دورے پر شنگھائی پہنچے، جہاں انہوں نے WAICO کے قیام کی تقریب میں شرکت کے علاوہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس (WAIC) 2026 میں بھی شرکت کی۔

کانفرنس کے موقع پر نائب وزیراعظم نے چین کے وزیر خارجہ وانگ ای سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے پاک چین تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا اور آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں سی پیک 2.0 کے تحت اعلیٰ معیار کی ترقی، تجارت، سرمایہ کاری، سائنس و ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے خطے اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون، جدت پر مبنی ترقی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی عکاس ہے۔

چین نے گزشتہ سال عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے مؤثر نظم و نسق اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے WAICO کے قیام کی تجویز پیش کی تھی، جس کی پاکستان نے وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورۂ چین کے دوران بھرپور حمایت کا اعلان کیا تھا۔

شنگھائی میں جاری عالمی کانفرنس میں مختلف ممالک کے سربراہان، وزراء، اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام، ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندے اور مصنوعی ذہانت کے عالمی ماہرین شریک ہیں، جہاں AI گورننس، اوپن سورس ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت اور عالمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ کانفرنس کے دوران مصنوعی ذہانت کے عالمی نظم و نسق سے متعلق چین کا مستقبل کا وژن پیش کریں گے، جبکہ ہواوے سمیت متعدد چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنی جدید ترین AI مصنوعات اور کمپیوٹنگ سسٹمز بھی متعارف کرا رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق WAICO کا قیام عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت میں تعاون، ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی اور ترقی پذیر ممالک کو جدید AI نظام سے مستفید کرنے کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں